خطبات محمود (جلد 14) — Page 210
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء قرآن پڑھو اور سنو بلکہ دوسروں کو بھی سناؤ اور پڑھاؤ۔ اگر مجھے یہی نظر آجاتا کہ قادیان کے گھر گھر میں درس ہوتا ہے تو گو میں پھر بھی مسجد اقصی کے درس میں شامل نہ ہونے کو جائز نہ سمجھتا مگر میں سمجھتا کہ قرآن پڑھنے میں کمی نہیں آئی۔ لیکن اب نہ تو گھروں میں درس ہوتے ہیں اور نہ اپنے طور پر پڑھا جاتا ہے، نہ ہی اس میں شامل ہونے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حالانکہ خود قرآن کریم پڑھ کر اتنا عرفان حاصل نہیں ہوتا جتنا سن کر یا دوسرے کو پڑھا کر حاصل ہوتا ہے۔ پس اس غفلت سے تو بہ کرو اور آئندہ کیلئے قرآن کے درس میں شامل ہو کر اسے وسیع کر دو تا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیشہ تم میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں جو قرآن سننے والے، پڑھنے والے، پڑھانے والے اور قرآن مجید سے برکات اور فیوض حاصل کرنے والے ہوں کیونکہ یہی وہ چیز ہے جو انسانی روح کو ہمیشہ زندہ رکھتی ہے۔ ( الفضل ۱۴ ستمبر ۱۹۳۳ء) بخاری کتاب مواقيت الصلوة باب من دخل ليؤم الناس فجاء الامام الاول فتأخر الاول اولم يتأخر جازت صلوته ترمذی ابواب الصلوۃ باب ما جاء في الجمع بين الصلوتين 208