خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 207

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء راستہ میں ہی پوچھ لیتے ہیں۔ اچھا جمعہ ہو گیا۔ پھر میں نے دیکھا ہے بہت لوگ اپنے بچوں کو ساتھ لانے میں غفلت کرتے ہیں۔ میں نے آج ہی جمعہ کیلئے آتے ہوئے بہت سے بچوں کو اِدھر اُدھر دکانوں پر کھڑے دیکھا ہے حالانکہ اگر بچے بھی مسجد میں آجائیں تو اس سے دُگنی جگہ بھی کفایت نہیں کر سکتی ۔ سکولوں کے ہیڈ ماسٹر اگر توجہ کریں تو چار پانچ سولڑ کا ہی درس میں شامل ہو سکتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے میرے درس میں سات آٹھ سو کے قریب آدمی جمع ہو جاتے تھے حالانکہ اس وقت سے ہماری قادیان کی جماعت کی تعداد دگنی ہو چکی ہے۔ معمولی حالتوں میں تین ساڑھے تین سو آدمی آیا کرتے تھے۔ اور آج تو سولہ یا سترہ سو با قاعدگی کی حالت میں اور چھ سات سو بغیر اطلاع کئے بھی جمع ہو جانے چاہئیں ۔ قرآن کا درس تو ایسی چیز سو ہے جسے زیادہ وسیع کرنا چاہئے۔ محلوں کی مساجد میں درس ہونا چاہئے تا کہ کمزور اور بیمار لوگ اپنی اپنی مساجد میں ہی درس سن لیا کریں۔ پس بجائے کم کرنے کے ہمیں درس کو زیادہ وسیع کرنا چاہئے ۔ ہماری جماعت کے لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک شعر پڑھا کرتے ہیں بلکہ دشمن بھی پڑھ لیتے ہیں جو یہ ہے۔ جمال و حسن قرآن نور جان ہر مسلماں ہے قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے جو شخص نور جان ہر مسلماں کو چھوڑتا ہے اس کے پاس باقی کیا رہا جب جان ہی نہ رہی تو بے جان کو تو لوگ دفن کر دیتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس شعر میں قرآن مجید سے اپنے عشق کا اظہار کیا ہے آپ فرماتے ہیں۔ قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے یعنی لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ ہمارا بچہ فلاں چاند میں پیدا ہوا۔ اب دو سال کا ہو گیا ہے اب چار سال کا ہو گیا فرما یا لوگوں کو تو اس بات کا فکر ہوتا ہے کہ ان کا بچہ کتنا بڑھا مگر ہمیں اس بات کا فکر رہتا ہے کہ قرآن کتنا بڑھا، اس کا علم لوگوں میں وسیع ہوا یا کم ہو گیا۔ پس یا درکھو قرآن ہماری جان ، ہماری غذا اور ہماری روحانی ترقی کا واحد ذریعہ ہے۔ یہاں مختلف سکولوں کے طالب علم رہتے ہیں جن میں اگر پرائیوٹ طلباء بھی شامل کر لئے جائیں تو سات آٹھ سو کے قریب ان کی تعداد ہو جاتی ہے کیونکہ سوڈیڑھ سو پرائیوٹ طالب علم ہوتے ہیں۔ اگر سکولوں 205