خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 201

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء بچے ہوتے ہیں یا ایک دو مہمانوں میں سے بھولے بھٹکے وہاں چلے جاتے ہیں۔باقی مدرسوں کے ٹیچر طالب علم ، قادیان کے رہنے والے اور باہر سے آنے والے مہمان اسے فرض کفایہ سمجھتے ہیں۔وہ خیال کرتے ہیں کہ اگر ایک بچہ بھی درس میں شامل ہو جائے تو تمام قادیان والوں کا فرض ادا ہو جاتا ہے۔میں نے پہلے بھی کہا تھا اور اب پھر کہتا ہوں کہ جو لوگ آدمیوں کیلئے درس سنتے ہیں، وہ خدا کی رضا کے وارث نہیں ہو سکتے۔ایسے آدمی بے شک ہو سکتے ہیں بلکہ ہیں، جن کو خدا تعالیٰ نے اس قدر علم دیا ہو کہ خاص حالات میں یا خاص کاموں کی وجہ سے اگر درس میں شامل نہ ہو سکیں تو انہیں نقصان نہ پہنچے۔پھر بعض لوگ معذور ہوتے ہیں، بعض سفر پر ہوتے ہیں۔ان وجوہات سے اگر سو میں سے پندرہ یا بیس کی نسبت بھی کمی آجائے تو لوگ معذور سمجھے جاسکتے ہیں۔اور خیال کیا جاسکتا ہے کہ کچھ بیمار ہوں گے، کچھ سفر پر ہوں گے۔اور جب اللہ تعالی نے بیمار کو اجازت دی ہے کہ اگر وہ کھڑا ہو کر نماز نہ پڑھ سکے تو بیٹھ کر پڑھ لے اور اگر بیٹھ کر نہ پڑھ سکے تو لیٹ کر پڑھ لے۔تو قرآن مجید کا درس تو بہرحال نوافل میں سے ہے، اس کے متعلق بھی ایسی معذوریاں پیش آسکتی ہیں۔اور اگر اس طرح درس سننے والوں میں کچھ کمی واقع ہو جائے تو یہ قابلِ اعتراض بات نہیں۔لیکن اگر قادیان میں رہنے والوں میں سے ایک فیصدی آدمی بھی درس میں شریک نہ ہوں تو کس قدر افسوس کی بات ہے۔اِس وقت قادیان میں چھ ہزار احمدی بستے ہیں۔ان میں سے اگر دس بارہ سال تک کے لڑکے لڑکیوں کو نکال دیا جائے اور انہیں ڈیڑھ ہزار فرض کرلیا جائے ، گو لڑکوں کے نکالنے کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔تو ساڑھے چار ہزار باقی رہ جاتے ہیں۔ان میں سے سوا دو ہزار اگر عورتیں نکال دی جائیں تو سوا دو ہزار مرد رہ جاتے ہیں۔ان میں سے اگر ایک فیصدی آدمی بھی درس میں شامل ہوں تو بائیس (۲۲) آدمی بنتے ہیں، جنہیں درس میں شامل ہونا چاہیئے۔مگر مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض دفعہ درس میں ۱۵ ۱۶ آدمی بھی نہیں ہوتے۔حالانکہ ایک فیصدی کے لحاظ سے ۲۲ دو فیصدی کے لحاظ سے ۴۴ اور ۴ فیصدی کے لحاظ سے ۸۸ آدمی شامل ہونے چاہئیں۔اور یہ اس صورت میں ہے جب کہ عورتیں اس تعداد سے نکال دی گئی ہیں۔اور جبکہ دس بارہ سال تک کے بچے بھی اس میں شامل نہیں کئے گئے۔لیکن اگر نوے یا سو آدمی بھی درس میں شامل نہیں ہو سکتے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ قادیان کے آزاد عاقل، بالغ اور سمجھدار لوگوں میں سے چار پانچ فیصدی لوگ بھی درس میں شامل ہونے کیلئے تیار نہیں۔