خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 198

خطبات محمود (۲۲) سال ۱۹۳۳ء ادائیگی نماز اور درس القرآن کے متعلق ضروری ارشاد (فرموده ۸ - ستمبر ۱۹۳۳ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ میں نے اُس خطبہ جمعہ میں جو پالم پور کے قیام کے دوران میں قادیان آ کر پڑھا تھا یہ ارادہ ظاہر کیا تھا کہ چونکہ جگہ قریب ہے اس لئے میرا ارادہ ہے کہ ایک دو جمعہ کے وقفہ کے بعد یہاں آکر خطبہ پڑھ دیا کروں لیکن انسان عالم الغیب نہیں اور اللہ تعالیٰ کی مشیتیں اسی کو معلوم ہیں، یہاں سے واپس جاتے وقت جب ہم پٹھانکوٹ پہنچے تو معلوم ہوا کہ دریائے چکی کا پل جو چالیس سال سے محفوظ چلا آ رہا تھا اور نہایت مضبوط پل تھا پانی کے زور سے اس کا ایک بہت بڑا حصہ ٹوٹ کر بہہ گیا ہے اور موٹروں کی آمد ورفت جب تک کہ پل دوبارہ نہ بن جائے ناممکن ہو گئی ہے۔ اس وجہ سے جو میرا ارادہ تھا کہ درمیان میں آتا رہوں گا وہ پورا نہ ہو سکا۔ اور اس عرصہ میں ایسے کئی مضامین جن کے متعلق اگر مجھے موقع ملتا تو میں انہیں بیان کرتا ، بیان ہونے سے رہ گئے ۔ اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو مجھے امید ہے آئندہ مختلف اوقات میں ان کے متعلق کچھ کہنے کا موقع مل جائے گا۔ انہی امور میں سے جن کے متعلق میں نے پالم پور کے قیام کے دنوں میں ہی بعض باتیں کہنے کا ارادہ کیا تھا، ایک بات کے متعلق آج کچھ کہنا چاہتا ہوں ۔ لیکن اس کے شروع کرنے سے پیشتر ایک اور معاملہ کے متعلق جو کل ہی ہوا ہے، میں اپنی جماعت کو عموما اور قادیان کی جماعت کو خصوصا واقف و آگاہ کرنا چاہتا ہوں ۔ میں نے پہلے بھی اس بارے میں ایک دفعہ دوستوں کو مسجد مبارک میں نماز سے پہلے یا 196