خطبات محمود (جلد 14) — Page 190
خطبات محمود 14۔سال ۱۹۳۳ء میں ذکر ہے کہ وہ روئے پیٹے اور بچوں کی طرح روٹھ گئے۔قرآن کریم فرماتا ہے۔انہوں نے کیا۔اے موسیٰ! فَاذْهَبْ أَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلاَ إِنَّا هُهُنَا قَاعِدُونَ ہے۔ہمارے مد مقابل ایک تجربہ کار جنگجو قوم ہے۔ان کے پاس اسلحہ بھی ہم سے زیادہ ہیں۔وہ اپنے وطن میں ہیں اور راستوں سے اچھی طرح واقف ہیں۔ہمیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ ان کا تعاقب کیسے کریں۔وہ محفوظ قلعوں میں ہیں اور ہم جنگلوں میں۔تم نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ ہمیں بادشاہت دو گے۔اس لئے ہم تو ہاتھ نہیں اُٹھائیں گے اور یہیں بیٹھے رہیں گے تم اور تمہارا خدا جاؤ اور ملک فتح کر کے ہمیں دے دو۔بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے غداری کی۔انہوں نے ان سے ایک وعدہ کیا تھا جسے لفظاً پورا نہیں کیا۔وہ بھی مولوی ثناء اللہ صاحب کی قسم کے لوگوں کی طرح ان سے اس وعدہ کے لفظی ایفاء کا مطالبہ کرتے ہیں۔ایک ظاہر بین کی نگاہ میں مطالبہ بالکل معقول معلوم ہوتا ہے لیکن جب ہم اس واقعہ کو ایک اور نقطہ نگاہ سے دیکھتے ہیں تو اس کی شکل ہی بدل جاتی ہے۔رسول کریم ﷺ نے مکہ کی فتح پر انصار سے مخاطب ہو کر فرمایا۔اے انصار! کیا تم نے یہ کہا ہے کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور مال غنیمت مہاجرین میں تقسیم کیا جارہا ہے۔انہوں نے عرض کیا۔حضور ہم میں سے ایک نوجوان نے نادانی سے ایسا کہہ دیا۔آپ نے فرمایا تم کہہ سکتے ہو کہ محمد ال کو ہم نے بے در پایا' ہم نے اسے اپنے گھروں میں جگہ دی۔اس کے بھائی اس کے خون کے پیاسے تھے ، ہم اس کے آگے پیچھے لڑے۔دنیا میں اس کی بات کوئی نہ سنتا تھا، ہم نے لوگوں تک اس کا پیغام پہنچایا۔پھر جب فتح ہوئی تو اس نے مال اپنی قوم میں تقسیم کردیا۔لیکن تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ محمد ال نے ہمیں قرب الہی حاصل کرایا، تقویٰ دیا، خدا کی محبت دی۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و نصرت سے اسے فتح دی اور خدائی فوجوں نے مکہ فتح کیا۔مکہ اس کا پیدائشی مقام تھا اور مہاجرین کا وطن۔انہیں توقع تھی کہ مکہ فتح کر کے وہ اپنے گھروں پر قبضہ کریں گے مگر مکہ والے چند اونٹ لے گئے اور ہم اپنے ساتھ رسول اللہ کو لے آئے سے یہی دونوں رُخ یہاں ہیں۔اگر حکومت کے رنگ میں کوئی تغیر خدا تعالی کو منظور نہیں تھا تو اسے بھلا اس سے کیا تھا کہ حضرت موسیٰ بادشاہ ہوں یا فرعون مصر بنو لاوی کا ہو یا بنی اسرائیل کا۔اگر وہ ایسی ہی حکومت پسند کرتا جیسی فرعون کی تھی تو فرعون سے حکومت