خطبات محمود (جلد 14) — Page 183
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء کا تازہ فضل ہے ۔ پس جب تک تمہارے اندر زندگی کی امید باقی ہے، وہ یاد دہانی کراتا رہے گا۔ مگر جب اُس نے یاد دہانی چھوڑ دی اور تم قصوں میں پڑ گئے تو وہ موت کا وقت ہوگا۔ پس یہ اُس کی تازہ یاد دہانی ہے۔ لیکن دراصل وہی پیغام ہے جو اُس نے آدم ، نوٹ ، موسی عیسی ، ابراہیم ، اور محمد مصطفی صلی السلام اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیا تھا۔ یعنی اگر خدا کا قرب چاہتے ہو خواہ وہ فردی ہو یا جماعتی ، تو موت قبول کرو۔ اور صرف یہی نہیں کہ خود ہی یہ سمجھو بلکہ دوست دشمن سب کہیں کہ یہ ہلاکت کے منہ میں جا رہے ہیں۔ اور منافق اس موت میں تمہارے ساتھ شریک نہ ہو سکیں۔ دشمن خوش ہو کہ بس یہ مرنے لگا ہے۔ اور صرف پھیلنے کا بہانہ چاہئے کہ یہ گیا۔ جب یہ مقام حاصل ہو تو پھر اللہ تعالیٰ ایسے بندوں کو مرنے نہیں دیتا۔ اسے اپنے بندوں کیلئے غیرت ہے۔ ایسی غیرت کہ اس نے ان شہداء کے متعلق جو بیچ بیچ مر چکے۔ جن کے متعلق وہ خود فرما چکا ہے کہ اس دنیا میں واپس نہیں آسکتے ۔ جن کے متعلق رسول کریم صلی ا یہ تم کو اس نے کشف میں دکھایا کہ ایک صحابی 2 کو جو جنگ بدر میں شہید ہو چکا تھا، اللہ تعالیٰ نے اپنے حضور بار یاب کیا اور اس سے پوچھا کہ تمہاری اگر کوئی خواہش ہو تو بتاؤ میں اسے پورا کروں گا۔ مگر جب اس نے کہا کہ میری خواہش تو ایک ہی ہے کہ مجھے پھر زندہ کیا جائے تا پھر میں تیری راہ میں مارا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں پھر مارا جاؤں تو باوجود یکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی خواہش کو پورا کرنے کا وعدہ فرمایا تھا ، پھر بھی اسے فرمایا کہ اگرچہ تیری خواہش کارڈ کرنا مجھ پر گراں گزر رہا ہے مگر میں عہد کر چکا ہوں کہ مردوں کو زندہ کر کے پھر دنیا میں نہیں بھیجا جائے گا ملے۔ غرض باوجود اس کے کہ وہ لوگ مر گئے اور اس طرح ان کی موت واضح ہو چکی ۔ پھر بھی حکم دیتا ہے کہ ان کو مردہ مت کہو۔ اور اس صحابی نے جو خواہش کی یہی اصل مقصود ہے جو اللہ تعالیٰ کے بندہ کے سامنے ہونا چاہئے ۔ جب تک یہ نہ ہو ترقی نہیں ہو سکتی ۔ اور جب یہ ہو جائے تو پھر انسان کبھی نہیں مر سکتا۔ دیکھ لو ایک طرف تو ان لوگوں کو ایسے مردے کہا ہے کہ جو باوجود اس قدر قرب الہی کے واپس نہیں آسکتے ۔ ادھر اس صحابی کو یہ جواب دیتا ہے مگر ان سب باتوں کے باوجود لوگوں کو یہی حکم دیتا ہے کہ ان کو مردے مت کہو کیونکہ وہ زندہ ہیں ۔اے اور جوان مردوں کو مرا ہوا کہنا برداشت نہیں کر سکتا وہ تم زندوں کو مردہ دیکھنا کیسے گوارا کرے گا۔ اگر تم اس کی راہ میں مر جاتے ہو اور قبر میں دفن ہو کر کتبہ بھی لگ جاتا ہے 181