خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 178

خطبات محمود ۱۷۸ سال ۶۱۹۳۳ ނ " ابوبکر سے بڑھ جاؤں گا۔لیکن جب میں وہاں پہنچا تو ابوبکر پہلے موجود تھے۔اور جو کچھ ساتھ لائے تھے، رسول کریم کے سامنے رکھا تھا۔رسول کریم ال نے جو ہر طرح صحابہ کا خیال رکھتے تھے ، پہلے ان چیزوں کو دیکھا اور پھر حضرت ابوبکر کی طرف دیکھا اور دریافت فرمایا کہ ابوبکر تم نے گھر میں کیا چھوڑا ہے انہوں نے فرمایا کہ صرف خدا اور اُس کا رسول یعنی جو کچھ تھا لے آیا ہوں۔حضرت عمر " کہتے ہیں یہ سُن کر میری گردن نیچی ہو گئی۔اور میں نے سمجھ لیا کہ میں ابوبکر کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔ایسی قربانیاں کرنے والے ہمارے سلسلہ میں بھی تھے اور اب بھی ہیں۔ایسے لوگ اس وقت موجود ہیں جنہیں میں نے حکماً روکا ہوا ہے کہ اس زیادہ چندہ دینے کی تم کو اجازت نہیں دی جا سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بھی ایسے لوگ تھے۔مجھے یاد ہے۔میں ایک دفعہ حضور کی مجلس میں بیٹھا تھا کہ ایک منی آرڈر آیا جس کے کوپن پر کچھ لکھا تھا۔جسے پڑھ کر آپ پر ایک عجیب کیفیت طاری ہو گئی جیسے جذبہ وفا کو دیکھ کر ایک رقت سی طاری ہو جاتی ہے۔پھر آپ نے بتایا یہ منی آرڈر منشی رستم علی صاحب کا ہے اور لکھا ہے کہ حضور کی تحریر مالی تکالیف کے متعلق پہنچی۔اور اللہ تعالی کی حکمت ہے کہ اس نے ساتھ ہی میرے لئے اس میں حصہ لینے کا موقع بہم پہنچا دیا یعنی میری ترقی کا حکم آگیا ہے۔ان کی تنخواہ ۷۰ روپے کے قریب تھی اور ترقی ہونے پر ایک سو کم و بیش کا اس میں اضافہ ہوا تھا۔انہوں نے لکھا یہ اضافہ اور جتنے عرصہ کی بقایا ترقی ملی ہے۔وہ میں بھیجتا ہوں اور پہلی تنخواہ سے چندہ بھی بھیجتا رہوں گا۔ہے وہ سب " حضور ر کیلئے آج بھی ایسے نمونے ہیں مگر ان لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا قرب حاصل تھا، اس لئے اُن کی قربانیاں عشق کے ساتھ ہوتی تھیں مگر افسوس کہ آج تحریکیں کرنی پڑتی ہیں۔میرے دل پر ایک واقعہ کا بہت گہرا اثر ہے۔منشی اروڑے خان صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے عشق تھا۔وہ کپور تھلہ میں رہتے تھے۔اور کپور تھلہ کی جماعت کے اخلاص کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس قدر تعریف فرمایا کرتے تھے کہ آپ نے انہیں ایک تحریر بھی لکھ دی تھی جو انہوں نے رکھی ہوئی ہے کہ اس جماعت نے ایسا اخلاص دکھایا ہے کہ یہ جنت میں میرے ساتھ ہوں گے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بار بار درخواست کرتے کہ حضور کبھی کپور تھلہ تشریف لائیں۔آپ نے بھی وعدہ کیا ہوا تھا کہ جب موقع ہوا آئیں گے۔