خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 177

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء غیر مومن ویسی قربانی نہ کر سکتا۔ ہمیں دیکھنا چاہیئے کہ کیا ہماری قربانیاں اس حد تک پہنچ گئی ہیں کہ دشمن کہہ رہے ہوں کہ یہ خود کشی کر رہے ہیں۔ ہر جماعت کو اور ہر فرد کو اپنی اپنی جگہ سوچنا چاہئے کہ کیا ہماری جانی و مالی قربانیاں ایسی ہیں کہ دشمن کہیں اب نہیں بچ سکتے ۔ یہ اپنے ہاتھوں موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔ کیا ہمارے وقت اور عزت و آبرو کی قربانی اس حد تک پہنچ چکی ہے۔ اگر پہنچ گئی ہے تو وہ جماعت یا فرد سمجھ لے کہ اس نے ایک حد تک انتہائی قربانی کی لیکن اگر یہ نہیں ، اگر دشمن اس کی بجائے یہ اعتراض کرتا ہے کہ ان میں اور ہم میں کیا فرق ہے؟ دونوں روپیہ خرچ کرتے ہیں، اوقات خرچ کرتے ہیں۔ اگر یہ عزت کی قربانی کر سکتے ہیں تو ہم بھی موقع آنے پر اس سے دریغ نہیں کرتے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہماری ہم موقع دریا قربانیاں اس حد تک نہیں پہنچیں جو انتہائی قربانی کی حد ہے۔ یہ امر کہ ہماری قربانیاں انتہائی حد کو پہنچ گئی ہیں دو ہی طریق سے معلوم ہو سکتا ہے۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ خود کہہ دے اور الہام کے ذریعہ بتا دے۔ یا پھر نتائج کے ذریعہ پتہ لگ جائے یعنی اللہ تعالیٰ ایسے نتائج پیدا کر دے کہ دنیا کے قدم اس قوم کے سامنے لڑکھڑا جائیں اور دشمن پر لرزہ طاری ہو جائے ۔ اگر تو الہام ہو یعنی خدا تعالیٰ کہہ دے کہ تمہاری قربانیوں کی مقدار پوری ہو چکی تو ایسا انسان سمجھ لے کہ اس نے اپنا حق ادا کر دیا۔ جیسا کہ قرآن کریم میں صحابہ کے متعلق آتا ہے ۔ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ ہے۔ یعنی ان میں سے بعض نے اپنا حق پورا ادا کر دیا اور بعض منتظر ہیں کہ موقع ملے تو ادا کریں۔ یہ اشارہ ایک صحابی ہے کے متعلق ہے جو جنگ میں شریک نہ ہو سکے تھے۔ لیکن اس کا انہیں اس قدر افسوس اور رنج تھا کہ جس طرح کسی عزیز کی موت کا ہو اور تھا سکتا ہے۔ وہ کہتے تھے محمد رسول اللہ صلی السلام جنگ کیلئے تشریف لے گئے اور اپنی جان کو خطرے میں ڈالا اور میں شامل نہ ہو سکا۔ اس سے بڑھ کر افسوس ناک بات اور کیا ہو سکتی ہے۔ ایسی حالت میں بے اختیار ان کے منہ سے نکلا۔ اچھا پھر موقع آنے دو، میں بتاؤں گا کہ کس طرح جنگ کی جاتی ہے۔ پھر وہ ایک دوسری لڑائی میں شامل ہوئے اور ایسی جنگ کی کہ واقعی حق ادا کر دیا لیکن اتفاق ایسا ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی بعض مصلحتوں کے ماتحت مسلمانوں کو پیچھے ہٹنا پڑا اور رسول کریم صلی یتیم سے مسلمان جدا ہو گئے ۔ اُن کی بھاگنے کی قطعا نیت نہ تھی مگر پھر بھی حالت ایسی ہو گئی تھی کہ انہیں میں پاؤ میں پیچھے ہٹنا پڑا۔ اس افراتفری میں ایک وقت ایسا آیا کہ رسول کریم صل الله السلام کے ساتھ ایک وقت صرف ایک درجن اور ایک 175