خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 162

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء سے واسطہ نہیں پڑا ، اللہ تعالیٰ کو پیارا معلوم ہوا اور اسے ان نعمتوں کا وارث قرار دے دیا۔ جو رسول کریم صلی سی سیم بیان فرمارہے تھے۔ اسی طرح حدیثوں میں آتا ہے ایک شخص قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوگا ۔ اس کے عیب بیان کئے جائیں گے۔ اس کے گناہ بہت زیادہ ہوں گے۔ وہ اپنے گناہوں کو دیکھ کر سمجھے گا کہ اب میرے لئے کوئی نجات کا ذریعہ نہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس کے چھوٹے سے چھوٹے گناہ بھی اس کے سامنے پیش کرے گا۔ ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا اور جس طرح مجرم کو خاموش کرایا جاتا ہے۔ اسی طرح گناہوں کی ایک لمبی فہرست اس کے سامنے پیش کی جائے گی۔ اور وہ یہی کہتا رہے گا کہ ہاں میرے ایسے اس کے ہی اعمال ہیں ۔ سوائے خدا کے فضل کے مجھے کوئی چیز نہیں بچا سکتی ۔ اللہ تعالیٰ کو اس کی یہ ادا پسند آ جائے گی۔ وہ فرشتوں سے کہے گا۔ جاؤ میں نے اس کے جتنے گناہ گنوائے ، ان کے بدلہ میں اس کی نیکیاں لکھی جائیں اور اسے جنت میں داخل کر دیا جائے۔ تب وہ بندہ اللہ تعالی کی مغفرت سے دلیر ہو کر کہے گا۔ میرے اور بھی گناہ ہیں۔ انہیں بھی شمار کیا جائے رسول کریم صلی ا ال سلم اتنا بیان فرما کر ہنسے اور فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ بھی اس بندے کی اس بات پر ہنسا۔ اور کہا میرے بندے کو دیکھو۔ میری مغفرت کو دیکھ کر کتنا د لیر ہو گیا اب اپنے گناہ خود گنا رہا ہے ہے۔ غرض یہ بھی ایک ادا ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند آ گئی ۔ مگر ان ساری باتوں پر اگر غور کرو گے تو معلوم ہوگا کہ ایک ہی چیز ہے جو ان سب میں مشترک ہے۔ اور وہ اس عظیم الشان ہستی پر جو ہماری خالق و مالک ہے اعتماد اور اس سے سچی محبت ہے۔ اس میں شبہ نہیں بظاہر یہ اعمال چھوٹے نظر آتے ہیں مگر ان کی تہہ میں ایک اعتماد ہے اپنے رب پر اور محبت ہے اپنے خدا سے۔ اگر ایک طرف ایسے شخص کے گناہ بہت زیادہ ہیں تو دوسری طرف خدا سے اس کا کوئی گہرا لگاؤ بھی معلوم ہوتا ہے یہ محبت اور لگاؤ ہی ہے جو انسان کو کھینچ کر کہیں کا کہیں لے جاتا ہے۔ جب کسی بندے کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت پیدا ہو جاتی ہے، تو پھر اس محبت کی چھوٹی سے چھوٹی چنگاری بھی اس کے دل میں ہو تو وہ دوزخ کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے بہت کافی ہوتی ہے۔ کیونکہ جس شخص کے دل میں محبت الہی کی آگ ہے، وہ دوزخ کی آگ میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ اگر ممکن ہوتا کہ اللہ تعالیٰ سے محبت کی چنگاری دل میں رکھنے والا دوزخ میں چلا جاتا تو یقینا دوزخ بھی اس کیلئے جنت ہو جاتی اور یقینا جہنم کی آگ اس کیلئے سرد کی جاتی۔ یہی وجہ ہے دیکھو حضرت ابراہیم 160