خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 160

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء کی طرح جسے چاہتا ہے دوزخ میں ڈال دیتا ہے۔ اور جسے چاہتا ہے جنت میں ڈال دیتا ہے بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ انسان جب تک کہ اس کا آخری سانس جاری ہے، ایسے خطرات میں مبتلا ہوتا ہے کہ ایک چھوٹی سے چھوٹی بات بھی اسے کہیں کا کہیں پھینک دیتی ہے۔ یہی بات رسول کریم صلی السلام نے بتائی اور سمجھایا کہ انسانی اعمال اور اس کا قلب ایسے خطرات میں گھرا ہوا ہے۔ اور اس قسم کی مشکلات اس کے سامنے ہیں کہ بعض دفعہ ذراسی بے احتیاطی سے وہ اپنی تمام عمر کی کارروائیوں کو باطل کر دیتا ہے۔ پس اگر یہ زندگی جس کی مثال رسول کریم صلی السلام نے ان الفاظ میں بیان فرمائی کہ ایک انسان دوزخ کے کنارے کھڑا ہوتا ہے مگر جنت میں چلا جاتا ہے اور دوسرا جنت کے کنارے کھڑا ہوتا ہے مگر دوزخ میں چلا جاتا ہے۔جسر صراط نہیں تو اور کون سی چیز جسر صراط کہلانے کی مستحق ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو تلوار سے زیادہ بار یک اور تلوار سے زیادہ تیز دھار رکھتی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں یہ بڑی وسیع زندگی ہے۔ لوگ خیال کرتے ہیں اس کے دائرے بڑے وسیع ہیں حالانکہ حقیقت میں ایک ایک قدم میں جو انسان اٹھاتا ہے ہزاروں خطرات پنہاں ہوتے ہیں۔ اسی طرح ایک ایک حرکت کے نیچے ہزاروں برکتیں بھی مخفی ہوتی ہیں۔ کتنا عظیم الشان فرق ہے جو ہم انسانی زندگی میں دیکھتے ہیں ۔ رسول کریم سی اسلام ایک شخص سے کو وحی لکھاتے ہیں ، وہ آپ کا مقرب سمجھا جاتا ہے۔ بالکل ممکن ہے کہ اُس وقت صحابہ اس وجہ سے اس پر رشک کرتے ہوں کہ اسے رسول کریم صلی السلام کے قریب بیٹھنے کا موقع ملتا ہے اور اُسے تازہ وحی سننے اور لکھنے کا شرف حاصل ہوتا ہے۔ مگر ایک دن قرآن مجید لکھتے لکھتے جبکہ رسول کریم صلی لا الہ تم اسے تازہ وحی لکھا رہے تھے ، یکدم اس کی زبان پر وہی وحی جاری ہو جاتی ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے لکھانا چاہتے ہیں ۔ قرآن مجید کی عبارت کا زور اُس کی فصاحت اس کی طبعی ترکیب ایک حد تک پہنچ کر بے اختیار اس کی زبان پر یہ وحی جاری کر دیتی ہے۔ فَتَبَارَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ ہے۔ اور رسول کریم صلی السلام فرماتے ہیں۔ ہاں لکھو۔ یہی وحی ہے۔ تو وہ بجائے اس کے کہ سجدے میں گر جاتا اور کہتا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنا فضل نازل کیا کہ اس کے کلام کا میرے دل پر بھی پر تو پڑ گیا ۔ وہ خیال کرتا ہے کہ یہ قرآن انسانی کلام ہے، خدا کا نہیں ۔ میں نے ایک فقرہ کہا، وہی جب پسند آگیا تو اسے قرآن مجید میں لکھوا دیا۔ اس خیال کے ماتحت وہ مرتد 158