خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 153

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء ہوتی ہے تو ایک شخص کی نماز بھی اس کیلئے رسوائی کا موجب ہو جاتی ہے اور دوسرے کا عیب بھی اس کی رسوائی کا ذریعہ نہیں بنتا۔ اصل چیز یہ ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کا ہو جائے اور جب کوئی شخص خدا تعالیٰ کا ہو جاتا ہے تو اُس کے عیب چھپائے جاتے ہیں اور دنیا و آخرت میں اگر بظاہر اس کو کوئی ذلت بھی پہنچتی ہے تو اُس کے بدلہ میں اور بیسیوں عزت کے سامان پیدا کر دئے جاتے ہیں اور جو شخص اپنے نفس کیلئے کام کرتا ہے اُس کے سامنے اگر عزت کے سامان بھی ہوں تو وہ اُس کیلئے ذلت کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ پس اپنی نیتوں کو درست کرو اور خدا کیلئے کام کرنے کی عادت ڈالو، چوہدری بننے کی کوشش نہ کرو ۔ دیکھو محمد صل للہ السلام اصل عزت کے مالک تھے مگر انہیں مکہ کا ایک کتا بھی بھونک لیتا تھا۔ اس کے مقابلہ میں جو اپنے آپ کو عزتوں والا سمجھتے تھے اور جو رسول کریم ملی ایام کو گالیاں دیا کرتے تھے ہوا۔ پس اصل عزت وہی ہے جو خدا کی طرف سے ملے۔ جب کوئی شخص خدا تعالیٰ کا ہو جاتا ہے تو اُس کی ذلت بھی عزت میں تبدیل ہو جاتی ہے اور جب کوئی خدا کا نہیں ہوتا تو اُس کی عزتیں بھی ذلت میں بدل جاتی ہیں۔ ( الفضل ۸ ۔ جون ۱۹۳۳ء) مسلم کتاب الامارة باب النهى عن طلب الامارة والحرص عليها (1) - روح المعانى الجزء الخامس صفحه ۶۷ مكتبه امدادية ملتان (ii) - الصارم المسلول على شاتم الرسول صفحه ۳۹٬۴۰ ابن تیمیہ طبعة اولیٰ حیدر آباد دکن ال عمران : ۱۹۵ الماعون : ۵ النساء : ٢٠ ५० 151