خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 152

خطبات محمود ۱۵۲ ۱۷ چندوں کی ادائیگی میں سرگرمی دکھاؤ (فرموده ۹ - جون ۱۹۳۳ء) سال ۱۹۳۳ء تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کئے بعد فرمایا:- میں سردرد کی وجہ سے زیادہ تو نہیں بول سکتا لیکن میں قادیان کے دوستوں کو اور باہر کی جماعت کے دوستوں کو بھی اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اس نئے سال یعنی بجٹ کے سال کا ایک مہینہ ختم ہو چکا ہے۔میں نے اس سال مجلس شوری کے موقع پر بیان کیا تھا ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔بیشک نئے آدمیوں میں کمزوری ہوتی ہے مگر نیا ہونا بھی دو طرح کا ہوتا ہے، ایک نیا ہونا نام کا ہوتا ہے اور ایک حقیقت کا کوئی شخص دو مہینے چار مہینے یا مہینے نیا رہا بھی تو اُسے نیا سمجھا جاسکتا ہے۔مگر یہ کہ نئی جماعت یا نئے احمدی پچاس سال تک نئے ہی رہیں، ایک تعجب انگیز امر ہے۔اور یہ نیا ہونا نام کا ہو گا حقیقت کا نہیں۔جیسے دلہن جب بیاہ کر لائی جاتی ہے تو اسے دلہن کہہ کر پکارا جاتا ہے۔پھر وہ بڑی ہو جاتی ہے۔اس کے بچے ہونا شروع ہو جاتے ہیں، لڑکے اور لڑکیوں کے بعد اُس کے پوتے اور پوتیاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں مگر اسے دُلہن ہی کہہ کر پکارتے رہتے ہیں۔اب اتنے عرصہ کے بعد کہ سلسلہ احمدیہ کو قائم ہوئے پچاس سال سے بھی زائد ہو گئے ہیں اور بیعت کے زمانہ پر بھی چھیالیس سال کے قریب گزر چکے ہیں، ہماری جماعت نئی نہیں کہلا سکتی اور نہ اس کے اکثر افراد نئے احمدی کہلا سکتے ہیں۔چھیالیس سال کے زمانہ میں صحابہ نے نصف دنیا فتح کرلی تھی۔سے ۱۳ سال کے عرصہ کے بعد رسول کریم ﷺ نے ہجرت کی۔اور ۲۳ سال کے بعد بعثت رم