خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 152

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء جا رہا تھا اور سمجھتا تھا کہ سال بڑی مزیدار ہے۔ تم ان حرکات سے نہ صرف اپنا ہی نقصان کرتے ہو بلکہ اپنی اولادوں کا بھی نقصان کرتے ہو اور صرف اپنا ہی خون نہیں کرتے بلکہ اپنی اولادوں کا بھی خون کرتے ہو۔ جب تک یہ مادہ ہماری جماعت کے اندر پیدا نہ ہو کہ جو جماعتی کام ہوں، ان میں افسروں کی رائے کو اپنی رائے پر مقدم کرے اُس وقت تک ترقی کیا ایمان بھی پیدا نہیں ہو سکتا۔ قرآن مجید کا صاف حکم ہے أَطِيعُو اللَّهَ وَأَطِيعُو الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ سے بھلا غیر احمدی تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ افسر اولی الأمر نہیں کیونکہ وہ ہم میں سے نہیں مگر تم خدا کو کیا جواب دو گے کیا خدا تمہیں یہ نہیں کہے گا کہ تم میں سے ہی بعض لوگوں کو میں نے الی الامر کیا مگر تم پھر بھی ان کی اطاعت سے کنارہ کشی کرتے رہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ افسر بھی غلطی کر سکتے ہیں مگر زید یا بکر کو جب سزا ملے تو پاگلا نہ طور پر کھڑے ہو کر شور مچادینا کہ ظلم ہو گیا نہایت ہی غلط طریق ہے۔ اس صورت میں ممکن ہے لوگ تمہیں نیک بخت کہہ دیں گے مگر خدا کے حضور تم نیک بخت نہیں بلکہ بدبخت شمار کئے جاؤ گے۔ اور اللہ تعالی کے دفتر میں نیک بختوں میں سے تمہارا نام کاٹ کر بدبختوں میں لکھ دیا جائے گا۔ پھر قیامت کے دن بھی یہ لوگ جو اب تمہاری تعریف کر رہے ہیں تعریف نہیں کریں گے بلکہ سب سے پہلے تمہارے منہ پر تھوکیں گے۔ پس اس نیک بخت کہلانے کا کیا فائدہ جو آخر میں تمہیں ذلیل ورسوا کرنے والا ہے۔ اللہ تعالی کی یہی سنت ہے کہ جب کوئی شخص خدا کیلئے کام کرتا ہے تو وہ اس کے گناہوں کو بھی چھپا دیتا ہے اور جب اپنے نفس کیلئے کام کرتا ہے تو اس کی نیکیوں کو بھی گناہ کی صورت میں ظاہر کر دیتا ہے۔ دیکھو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے متعلق فرماتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کیا کرتے ہیں رَبَّنَا وَاتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَت اے خدا ! جو تُو نے اپنے رسولوں کے ذریعہ ہم سے وعدے کئے ہیں وہ پورے فرما اور قیامت میں ہماری رسوائی کا کوئی سامان نہ ہو۔ کیونکہ تیرا مومنوں سے یہ وعدہ ہے کہ اُنکے عیوب پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے اور تو وعدوں کو وفا کر ۔ کو وفا کرنے والی ذات ہے ۔ پس جو شخص خدا کیلئے کام کرتا ہے اُس کا عیب بھی چھپا دیا جاتا ہے اور جو نفس کیلئے کرتا ہے اُس کی نیکی بھی بدی بن جاتی ہے جیسے قرآن مجید میں آتا ہے وَيلٌ لِلْمُصَلِّينَ هم بعض لوگ نماز تو پڑھتے ہیں مگر نماز پڑھنے کے باوجود اُن کیلئے ویل 150