خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 145

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء دوست اس کی تائید میں باتیں بنانے لگ جاتے ہیں۔ جس پر امام کو بھی بولنا پڑتا ہے اور اس طرح وہ بات نہ صرف ایک شہر سے نکل کر ساری دنیا میں پھیل جاتی ہے بلکہ تاریخ میں بھی محفوظ ہو جاتی ہے۔ ایسے ہی بیوقوف دوستوں کے متعلق کسی نے کہا ہے خدا مجھے میرے دوستوں سے بچائے۔ جس شخص کو اللہ تعالیٰ معرفت اور علم بخشے، اُسے حاکم بنے کا کبھی شوق نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ حکومت کی ذمہ داریاں کتنی وسیع ہوتی ہیں۔ حاکم بنے کا خواہشمند ہمیشہ جاہل ہوتا ہے۔ اسی لئے رسول کریم صلی سلیم نے فرمایا جو شخص خود کسی عہدہ کا طالب ہو، اُسے وہ عہدہ نہ دیا جائے اے ۔ مگر جاہل لوگ جن کے دل معرفت سے خالی ہوتے ہیں، وہ کہا کرتے ہیں ہمیں فلاں بات کا موقع کیوں نہیں دیا جاتا۔ وہ اپنے لئے مختلف مواقع کو حق تصور کرتے ہوئے اگر ان سے انہیں فائدہ اٹھانے نہ دیا جائے تو کہہ دیتے ہیں اُس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں آگے بڑھنے سے روکا جاتا ہے۔ اس طرح بعض بیوقوف اپنے متعلق یہ خیال کر لیتے ہیں کہ فلاں کام ہم سے اچھا کوئی نہیں کر سکتا۔ اسی طرح ایسے لوگ بھی اپنی جہالت کا اظہار کرتے ہیں۔ پھر کچھ اور لوگ ہوتے ہیں ان کا یہ مقولہ ہوتا ہے کہ دنیا میں جو بھی فیصلہ کیا جاتا ہے وہ غلط ہوتا ہے سوائے اُس کے جس پر اُن کی مہر ثبت بت ہو۔ وہ منہ سے تو رسول کریم کو خاتم النبیین کہتے ہیں مگر دراصل اپنے آپ کو خاتم الانسانیت سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ کوئی فیصلہ ہو جب تک اُن کی مہر اس پر نہ لگے، وہ کبھی اسے صحیح تسلیم نہیں کریں گے خواہ وہ خود دنیا کے جاہل ترین انسانوں میں سے کیوں نہ ہوں ۔ ایسے آدمیوں کی باتوں کی بعض دفعہ پرواہ نہیں کی جاتی مگر بعض دفعہ کرنی پڑی ہے، کیونکہ بعض دفعہ عقلمندوں کو بھی اس سے ٹھوکر لگنے کا احتمال ہوتا ہے۔ میرے نوٹس میں پچھلے دنوں قادیان کے ایک واقعہ کے حالات لائے گئے ۔ قادیان میں ایک نکاح ہوا۔ ایسا نکاح جو میرے نزدیک نہایت ہی ناپسندیدہ اور ہمارے سلسلہ کے طریق کے بالکل خلاف تھا۔ اس کے متعلق امور عامہ نے کچھ سزائیں دی ہیں ۔ اور اس بارے میں میرے پاس متعدد لوگوں کی طرف سے شکایتیں پہنچی ہیں۔ ان رقعوں میں نزلہ بر عضو ضعیف مے ریزڈ کے ماتحت امور عامہ کو سخت بھلا کہا گیا ہے۔ میں نزلہ بر عضو ضعیف مے ریزد اس لئے کہتا ہوں کہ وہ فیصلہ میرا تھا، امور عامہ کا نہیں تھا۔ مگر دانستہ یا نا دانستہ طور پر بعض لوگوں نے امور عامہ کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ اگر وہ شکایت برا کرنے والے ایماندار ہیں تو بیوقوفی سے اور اگر بے ایمان ہیں تو شرارت سے انہوں نے اس لئے 143