خطبات محمود (جلد 14) — Page 142
خطبات محمود 14 سال ۶۱۹۳۳ نظام سلسلہ کی پابندی کے بغیر ترقی محال ہے (فرموده ۲ - جون ۱۹۳۳ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کے متعلق شاعر کا یہ مقولہ کہ : گویم مشکل وگرنه گویم مشکل صادق آتا ہے۔یہ کیفیت انسانی قلب کی کہ بعض وجوہات سے انسان ایک بات نہیں کہنا چاہتا اور بعض دوسری وجوہ سے کہنا چاہتا ہے یا ایک بات اسے کہنی پڑتی ہے، ہر ملک اور ہر قوم میں تسلیم کی گئی ہے۔ہمارے ملک میں بھی بعض کہانیوں میں اس مسئلہ کو بیان کیا گیا ہے۔ہم چھوٹے ہوتے تھے اور کہانیاں سنتے تھے۔تو اُس وقت کئی بوڑھی خادمائیں یہ کہانی سنایا کرتی تھیں کہ ایک عورت نے اپنے خاوند کے آگے کتے کا گوشت پکا کر رکھ دیا۔یہ دیکھ کر اس کا بچہ جسے جادو کے زور سے کوئی حیوان بنادیا گیا تھا، یہ کہتا جارہا تھا بولوں تو ماں ماری جائے نہ بولوں تو باپ کتا کھائے۔اس کا بھی وہی مطلب ہے کہ گویم مشکل وگرنه گویم مشکل"- بات کروں تب بھی مشکل نہ کروں تب بھی مشکل ایک امام کیلئے اپنے اتباع اور مریدوں میں سے بعض کے عیوب اور غلطیاں بیان کرنا ایک نہایت ہی تاریخ کام ہوتا ہے۔لیکن بعض دفعہ لوگ اپنی بیوقوفی سے مجبور کر دیتے ہیں کہ عیب کو بیان کیا جائے۔زید ایک غلطی کرتا ہے، امام چاہتا ہے کہ اُس کو چھپائے یا اسے ایک دائرہ میں محدود رکھے۔جس شہر میں وہ بات ہوئی ہو اس سے باہر نہ نکلے۔لیکن ایسے آدمی کے۔