خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 141

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء سنتے اور مانتے ہیں ۔ تبلیغ کا کام کس قدر آسان ہو جاتا ہے۔ رسول کریم صلی یا تم نے فرمایا ہے کہ اپنے گھروں کو قبریں نہ بناؤ ہے۔ یعنی انہیں عبادت سے خالی نہ رکھو ، خود عبادت کرو اور بیوی بچوں کو اس کیلئے نصیحت کرو۔ میں نے پچھلے سال نصیحت کی تھی کہ ہماری جماعت کے دوست کم سے کم جمعہ کی رات کو تہجد پڑھنے کی عادت ضرور ڈالیں ۔ اُن دنوں اس کا چر چار ہا لیکن اب جو میں نے تحقیقات کی تو معلوم ہوا کہ پھر سستی پیدا ہو گئی ہے۔ ہزاروں نے اُس وقت تہجد شروع کر دی تھی بلکہ کئی نے تو دوسرے ایام میں بھی شروع کر دی ، مگر پھر بھول کر اسی جگہ آگئے جہاں سے چلے تھے۔ اُن کی مثال اس کمزور جانور کی سی ہے جسے جب تک کہ اس کا آقا ہانکتار ہے وہ چلتا رہتا ہے اور جب چھوڑ دے تو کھڑا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح جب تک ان کو ہانکا جائے ، چلتے ہیں اور جب چھوڑ دیا جائے کھڑے ہو جاتے ہیں اور نہیں جانتے کہ ایسی نیکیوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، ان کا ثواب تو ہانکنے والے کو ملے گا۔ جو جانور ہانکنے سے چلے وہ اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ ایسے آدمیوں کی نیکیاں تو اُس کی ہیں جس نے انہیں ہانکا۔ اصل نیکی اُسی کی ہے جس نے ایک دفعہ نصیحت کو سن کر پلے باندھ لیا اور پھر اس پر برا بر عمل کیا۔ اسی طرح میں نے تبلیغ کی تحریک کی تو ابتداء میں بہت جوش پیدا ہوا مگر تھوڑے عرصہ کے بعد پھر سرد ہو گیا۔ قادیان کے لوگ اس بات کے عادی ہو گئے ہیں کہ جس طرح جانور کے پیچھے کوئی سونٹا لے کر چلتا ہے۔ اسی طرح ان کے پیچھے کوئی ہانکنے والا ہو۔ اس طرح وہ چلتے جاتے ہیں جو نہی ہانکنے والا پیچھے ہٹے وہ بھی ٹھہر جاتے ہیں۔ چاہئے تھا کہ وہ دوسروں کو جگاتے مگر یہاں کے عوام کیا اور افسر کیا خود محتاج ہیں کہ جس طرح بے ہوش آدمی کے منہ پر پانی کا چھینٹا دیا جاتا ہے اسی طرح ان کو بھی چھینٹا دے کر کوئی ہوش میں لاتا رہے۔ اللہ تعالی ستار ہے اور اس کے بندوں کو بھی ستار ہونا چاہئے لیکن اگر میں اسی وقت کہوں کہ جن لوگوں نے اس ہفتہ میں تبلیغ کی ہے، وہ کھڑے ہو جائیں تو تمہاری کتنی پردہ دری ہوگی۔ اور اگر اس تین ہزار کے قریب کے مجمع میں سے صرف سات آٹھ کھڑے ہوں تو تمہاری کتنی ناک کٹے مگر میں ایسا نہیں کرتا ۔ یا درکھو ہر چیز کی ایک حد ہوا کرتی ہے۔ ایمان کی بھی ایک حد ہے اور کفر کی بھی ہستی کی بھی اور ہوشیاری کی بھی ، نیند کی بھی بیداری کی بھی۔ تمہارے سامنے کتنا عظیم الشان کام ہے۔ اس کیلئے بیداری پیدا کرو پہلے اپنے نفسوں کے اندر بیداری پیدا کرو اور پھر دوسروں کے اندر تم نے ڈیڑھ ارب مخلوق کو اسلام میں داخل کرنا ہے۔ ذرا سوچو تو سہی تمہاری 139