خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 140

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء کوششیں کیا اس کے مطابق ہیں؟ پھر ہماری کوششیں کچھ نہیں کر سکتیں جب تک دل پگھل نہ جائیں اور آستانہ الہی پر اس طرح نہ گر جائیں کہ اللہ تعالی کی رحمت جوش میں آجائے۔اللہ تعالی اپنے فضلوں سے تمہیں ہوشیار کرتا ہے۔کہیں مخالفوں کو مخالفت کا جوش دلاتا ہے، کہیں آپس میں ہی لڑائی جھگڑا ہو جاتا ہے اور اس سے وہ چاہتا ہے کہ تم بیدار ہو جاؤ۔اس کے معنے یہ ہیں کہ تمہارے اندر ایمان ہے۔جب ایمان باقی نہ رہے تو خدا تعالیٰ چھوڑ دیتا ہے اور بیدار نہیں کرتا۔تھے ۲۳ افعال الہی شاہد ہیں کہ اس وقت تک ہمارے اندر کامل ایمان والے باقی ہیں لیکن اس بیداری سے فائدہ اُٹھانا چاہیے۔تمہارا ایک دوست اُس وقت جبکہ تم سوتے ہو تمہیں آواز دیتا ہے اور تم جاگ اُٹھتے ہو۔پھر کیا وجہ ہے کہ خدا تعالی کی آواز سے بیدار نہیں ہوتے۔ایک سے بچے کی کس قدر چھوٹی سی آواز ماں کو جگادیتی ہے۔حالانکہ ماں اور بیٹے سے زیادہ گہرے تعلقات خدا اور بندے کے ہیں۔پھر جب خدا کہتا ہے کہ اُٹھو تو کیوں تم میں بیداری پیدا نہیں ہوتی اور کیوں تم گھروں سے باہر نہیں نکلتے تاکہ دوسروں کو بیدار کرو۔اس زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا خدا خود آسمان سے اُترا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دل پر اترا آپ کے قلم پر اترا آپ کی زبان پر اُترا۔وہ قلم کے ذریعہ سے چلایا اور سال تک چلاتا رہا۔رمز میں نہیں بلکہ کھلے الفاظ میں اُس نے کہا کہ دنیا تباہ ہونے والی ہے لئے بیدار ہو جاؤ۔وہ آپ کی زبان پر نازل ہوا اور کھلے الفاظ میں اُس نے بیدار کیا اور چلایا، بادشاہ اور آقا ہونے کے باوجود درد کی آواز سے چلایا۔ایسی درد کی آواز جو درد زہ والی عورت کی آواز سے بھی زیادہ دردناک ہو اور کہا میرے بندو اُٹھو۔مگر دنیا سوتی رہی اور اس نے کروٹ تک نہ بدلی۔کئی اُٹھے اور انہوں نے کمریں کس لیں اور اسی حالت میں جانیں دے دیں اور خدا کی رحمت میں داخل ہو گئے۔کئی ایک نے کریں کہیں، اب تک بیدار ہیں اور اگر خدا کی رحمت شامل حال رہی تو موت تک بیدار ہی رہیں گے۔مگر کئی ایک اُٹھے اور تھوڑی دیر کام بھی کیا مگر پھر سو گئے۔کئی بیدار ہوئے اور مثلا وضو کیلئے پانی لینے کی غرض سے لوٹا لے کر گھڑے کے پاس گئے۔گھڑے پر ہاتھ رکھا اور سو گئے۔کئی ایک نے آنکھیں کھولیں مگر لیٹے پڑے ہیں۔اور اتنا بھی نہیں جانتے کہ ہم سوتے ہیں یا جاگتے۔پس جاہل، عالم، امیر غریب سب اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو۔پہلے اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو اور پھر دوسروں کے اندر۔اس۔