خطبات محمود (جلد 14) — Page 138
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء گئے کہ ہ دنیا میں ہوتے ہوئے بھی اس سے علیحدہ رہو۔ انہیں کہا گیا تھا کہ دنیا میں جاؤ اور تیل مل کر جاؤ تا جس طرح چکنے گھڑے پر پانی نہیں ٹھہرتا ، اسی طرح دنیوی کششوں کے پانی کی تیز دھار بیشک تم پر گرے مگر تم پر کوئی اثر نہ کرے لیکن ہمارے بعض دوستوں کی مثال اُس عورت کی سی ہے جو ہر روز اُٹھ کر سحری کھاتی مگر روزہ نہ رکھتی تھی۔ ایک دن اس کی مالکہ نے اسے کہا کہ سحری کے وقت ہم تم سے کوئی کام تو لیتے نہیں، اگر تمہیں روزہ نہیں رکھنا ہوتا تو اُٹھنے کا کیا فائدہ۔ اس نے جواب دیا کہ بی بی! میں نماز نہ پڑھوں ، روزہ نہ رکھوں سحری بھی نہ کھاؤں تو کافر ہو جاؤں ۔ وہی مثال ہم میں سے بعض کی ہے۔ وہ حصہ جو ان کے مفید مطلب ہے۔ اسے تو لے لیتے ہیں لیکن جس میں ان کو قربانی کرنی پڑتی ہے اسے چھوڑ دیتے ہیں۔ انہیں یہ تو یاد رہ جاتا ہے کہ آقا نے کہا تھا کہ جاؤ دنیا میں رہو اور دنیوی معاملات میں حصہ لومگر یہ بھول جاتا ہے کہ یہ بھی کہا تھا کہ خبردار! تمہارا دل دنیا میں نہ پھنسے گویا اتنا یاد رہا کہ دنیا کی نعمتیں خدا تعالیٰ نے انسان کیلئے پیدا کی ہیں مگر یہ یاد نہیں کہ ان کے آقا نے یہ بھی کہا تھا کہ انسان کا دل صرف خدا کیلئے ہے۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ جبکہ میں سکول میں پڑھتا تھا، ایک طالب علم جو بہت مخلص تھا ، اب فوت ہو چکا ہے اللہ تعالیٰ مغفرت کرے۔ وہ ایک دن ایسے ذوق سے ریوڑیاں کھا رہا تھا کہ جس میں حرص کا رنگ پایا جاتا تھا۔ اس بات نے میرے دل پر اثر کیا اور اس عمر کے مطابق میں نے سمجھا کہ شاید اس لئے اس قدر جلدی جلدی کھا رہا ہے تا دوسرے لڑکے آکر شامل نہ ہو جائیں۔ اس پر مجھے تعجب ہوا اور میں نے پوچھا کہ اس قدر جلدی کیا ہے؟ اس نے جواب دیا سنا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ریوڑیاں بہت پسند لصلاة والسلام کو ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک دوائی ایسٹرن سیرپ کا بھی استعمال کیا کرتے تھے جو بہت کڑوی ہوتی ہے۔ میں نے کہا آپ صرف ریوڑیاں ہی نہیں کھاتے بلکہ ایسٹرن سیرپ کو بھی پسند فرماتے ہیں، آپ بھی کیوں نہیں استعمال کرتے ۔ غرض ہماری جماعت کا ایک حصہ اُس چیز کو تو لے لیتا ہے جو میٹھا ہے۔ وہ جب سنتا ہے کہ عیسائیت نے رہبانیت کی تعلیم دی ہے تو قرآن کریم اور سلسلہ احمدیہ کی کتب کو ہاتھ میں لے کر کہتا ہے کہ رہبانیت کے مقابلہ میں یہ کیا ہی اچھی تعلیم پیش کرتی ہیں ۔ جب ہندو مذہب کے ماننے والے اس کے سامنے اپنے بزرگوں کا ذکر کرتے ہیں کہ وہ کس طرح سالہا سال اُلٹے 136