خطبات محمود (جلد 14) — Page 137
خطبات محمود ۱۳ سال ۱۹۳۳ء آتا ہے۔لٹکے رہتے، سردیوں میں ٹھنڈے پانی میں کھڑے رہتے اور گرمیوں میں آگ کے سامنے بیٹھے رہتے، پھر سورج کی طرف دیکھتے رہتے تو ہمارا وہ حصہ مسکراتے ہوئے سرمارتا ہے اور کہتا ہے اسلام کی فوقیت ہے کہ وہ ایسی باتوں سے منع کرتا ہے۔اور ہمارے مذہب نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو رڈ کرنے سے روکا ہے۔قرآن کریم کہتا ہے۔اَمَّا بِنِعْمَتِ رَبِّكَ فَحَدِّثُ سے یعنی اللہ تعالٰی کی نعمتوں کو استعمال کرو۔وہ یہ تو کہتے ہیں مگر ان کو دوسری آیتیں بھول جاتی ہیں کہ خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں تمہاری جانیں، تمہارے مال ، بیوی بچے ماں باپ، بھائی بہن، دوست عزیز سب بیچ ہیں۔اگر ان کی محبت تمہیں خدا اور رسول اور دین کے مقابلہ میں کچھ بھی وزن رکھتی معلوم ہو تو تم کسی کام کے نہیں۔وہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ تعالی نے مومن کی جان و مال کو جنت کے عوض خرید لیا ہے۔وہ بھول جاتے ہیں کہ قرآن مجید میں اَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَ تَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ سے یعنی کیا تم ایک حصہ کو قابل عمل سمجھتے ہو اور دوسرے کو ترک کر دیتے ہو، یہ کون سی قربانی ہے، کون سی فدائیت ہے جو ہم سے آدھا حصہ چھڑا دیتی ہے اور صرف آدھا منواتی ہے۔اور آدھا حصہ بھی وہ جو میٹھا ہے۔جب تک ہماری جماعت میں یہ بیداری نہ پیدا ہو جائے اس وقت تک وہ کامیاب نہیں ہو سکتی۔اس کیلئے کسی بڑے علم کی ضرورت نہیں۔کئی نادان سمجھتے ہیں ہم پڑھے ہوئے نہیں ہم ان باتوں کو کہاں سمجھ سکتے ہیں۔حالانکہ ہمارا دین صرف پڑھے ہوئے لوگوں کیلئے نہیں بلکہ وہ ہر عالم و جاہل کیلئے ہے۔بالکل موٹے اصول ہیں، سیدھی سادی باتیں ہیں۔خدا کو ایک قرار دینا یعنی اس کے مقابل پر ہر چیز کو بیچ سمجھنا۔محمد ﷺ کو رسول ماننا۔یعنی یہ سمجھنا کہ تمام نیکیاں صرف آپ کے ذریعہ حاصل ہو سکتی ہیں۔اس کیلئے کون سے علم کی ضرورت ہے۔کبھی کہ نے اس امر کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ کوئی اسے بتائے کہ اسے خدا سے زیادہ محبت ہے یا بیوی بچوں سے۔وہ خدا کیلئے زیادہ وقت صرف کرتا ہے یا اپنے اور اپنے بیوی بچوں کیلئے ہر جاہل سے جاہل انسان محسوس کر سکتا ہے۔کیا کوئی ایسا بھی انسان ہے جو کہے کہ مجھے کوئی بتائے میں اپنی بیوی سے زیادہ محبت کرتا ہوں یا غیر عورت سے۔مجھے بتایا جائے کہ مجھے اپنے بیٹے سے زیادہ محبت ہے یا ہمسائے کے بیٹے سے۔اگر آج تک کسی نے یہ باتیں کسی عالم سے دریافت کی ہوں تو میں کہتا ہوں وہ حقدار ہے کہ کسے لا الہ کے معنی میری سمجھ میں نہیں آتے کوئی مجھے سمجھائے۔اگر وہ یہ سمجھ سکتا ہے کہ بیٹا زیادہ پیارا ہے یا ہمسائے کا بچہ تو کیا وہ -