خطبات محمود (جلد 14) — Page 124
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے جنت کی نعمتوں کو جمع کر کے بھیج دیا ہے۔ اس زمانہ میں اس مسجد اقصی کے کنویں کا پانی بہت مشہور تھا۔ اب تو معلوم نہیں لوگ کیوں اس کا نام نہیں لیتے ۔ آپ کا طریق یہ تھا کہ کہتے بھئی کوئی ثواب کماؤ اور پانی لاؤ۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود موجود ہوتے تو اور بات تھی ۔ وگر نہ آپ سیڑھیوں پر آکر انتظار میں کھڑے ہو جاتے اور پھر لوٹا لے کر منہ سے لگا لیتے ۔ دوسرے آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت میں بیٹھے ہوتے تو یوں معلوم ہوتا کہ آپ کی آنکھیں حضور کے جسم میں سے کوئی چیز کی جسم سےکوئی چیز لے کر کھا رہی ہیں۔ اُس وقت گویا آپ کے چہرے پر بشاشت اور شگفتگی کا ایک باغ لہرا رہا ہوتا تھا۔ اور آپ کے چہرہ چہرہ کا ذرہ ذرہ مسرت کی لہر پھینک رہا ہوتا تھا۔ جس طرح مسکرا مسکرا کر آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باتیں سنتے اور جس طرح پہلو بدل بدل کر داد دیتے ، وہ قابلِ دید نظارہ ہوتا۔ اگر اس کا تھوڑا سا رنگ میں نے کسی اور میں دیکھا تو وہ حافظ روشن علی صاحب مرحوم تھے۔ غرض مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے خاص عشق تھا۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھی آپ سے ویسی ہی محبت تھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا طریق تھا کہ مغرب کی نماز کے بعد ہمیشہ بیٹھ کر باتیں کرتے لیکن مولوی صاحب کی وفات کے بعد آپ نے ایسا کرنا چھوڑ دیا۔ کسی نے عرض کیا کہ حضور اب بیٹھتے نہیں۔ تو فرمایا کہ مولوی عبد الکریم صاحب کی جگہ کو خالی دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے۔ حالانکہ کون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے زیادہ اللہ تعالیٰ کوئی اور دوبارہ زندگی دینے والا یقین کرتا ہو۔ پس باوجود اس کے کہ موت ایک لازمی چیز ہے اور ہر ایک کیلئے مقدر ہے، ایسے مواقع پر طبعا ایک تکلیف ہوتی ہے۔ اور اس تکلیف کے درجہ کے مطابق ہی اس ہمدردی سے بھی مسرت ہوتی ہے جو دوستوں کی طرف سے ظاہر ہو۔ اور وہ ہمدردی اور اشتراک جو یہاں کے دوستوں نے عام طور پر ظاہر کیا، وہ اس رنج کے مقابل میں ویسا ہی اطمینان پیدا کرنے والی چیز تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت میں اتحاد پیدا کیا ہے کہ جس کی نظیر کہیں نہیں مل سکتی ۔ رنج کے وقت تو انسان یہ خیال ہی نہیں کر سکتا کہ دوسروں پر کیا اثر ہے۔ اس لئے صبح کے وقت میں جب قادیان میں داخل ہوا تو میرے دل کے کسی گوشہ میں بھی کوئی خیال نہ تھا کہ لوگ کیا احساس رکھتے ہیں لیکن جونہی میں یہاں آیا، یہاں کے ہر ایک چہرہ نے میری توجہ کو 122