خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 122

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء کہ آپ نے اپنے چچازاد بھائی کو ایک لشکر کا نائب سالار بنا کر بھیجا آپ نے فرمایا کہ اس لشکر کے سردار زید بن حارثہ ہوں گے۔ لیکن اگر وہ شہید ہو جائیں تو جعفر ہوں گے۔ اور اگر وہ شہید ہوں تو پھر عبداللہ ان کی جگہ ہوں گے۔ خدا تعالیٰ کی قدرت جنگ ہوئی اور زید مارے گئے جنہیں لوگ رسول کریم صلی السلام کا بیٹا کہا کرتے تھے۔ جعفر نے کمان ہاتھ میں لی لیکن وہ بھی مارے گئے ۔ اور پھر عبداللہ کمانڈ ر ہوئے لیکن وہ بھی کام آئے ۔ اس پر لشکر میں بہت گھبراہٹ پیدا ہوئی۔ بعض مسلمان اپنے مقاموں سے پیچھے ہٹنا شروع ہوئے ۔ اُس وقت حضرت خالد بن ولید نے آگے بڑھ کر اسلام کا جھنڈا تھام لیا اور کہا مسلمانو! یہ بھاگنے کا وقت نہیں بلکہ دلیری دکھانے کا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اُن کی ایسی نصرت کی کہ باوجود یکہ دشمن کی فوج بہت زیادہ تھی ، وہ مرعوب ہو گیا۔ رات ہو گئی اور حضرت خالد نے مسلمانوں کو اندھیرے میں پیچھے ہٹا لیا۔ اور اس طرح مسلمان تباہی سے بچ گئے۔ قبل اس کے کہ کوئی انسان آپ تک یہ خبر پہنچا تا رسول کریم صلی السلام کو بذریعہ وحی اس کی اطلاع ہو گئی ۔ آپ منبر پر تشریف لائے ، مسلمانوں کو جمع کیا اور فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ زید مارے گئے اور پھر جعفر اور عبد اللہ بھی جنگ میں کام آئے پھر ایک سیف من سُيُوفِ الله اس جگہ کھڑی ہوئی۔ اور اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تباہی سے بچالیا۔ جب ی شکر واپس آیا تو جن جن لوگوں کے رشتہ دار مارے گئے تھے ، انہیں تفصیلی حالات معلوم ہوئے تو کسی کی ماں نے کسی کی بہن نے کسی کی بیوی اور کسی کے اور رشتہ داروں نے رونا شروع کیا۔ تاریخ میں آتا ہے کہ جب رونے کی آوازیں آنا شروع ہوئیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی رو پڑے اور فرمایا اللہ بھی سب گھروں سے رونے کی آوازیں آتی ہیں مگر جعفر کے گھر سے کوئی آواز نہیں آتی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ مدینہ میں مسافر تھے۔ اور یہاں ان کا کوئی قریبی رشتہ دار نہ تھا۔ یہ ایک درد کا اظہار تھا۔ اس کے یہ معنی ہرگز نہ تھے کہ یہ کوئی اچھی چیز تھی۔ جعفر نے چونکہ رسول کریم مالی اسلام کے چچیرے بھائی تھے۔ اور سب رشتہ داروں کو چھوڑ کر رسول کریم صلی الا السلام کے ساتھ ہجرت کر آئے تھے۔ دوسروں کو روتے دیکھ کر آپ کو خیال ہوا کہ اگر ان کے بھی عزیز یہاں ہوتے تو وہ بھی روتے ۔ صحابہ کرام جو رسول کریم صلی السلام کی ہر خواہش کو پورا کرنا ضروری سمجھتے تھے، انہوں نے آکر اپنی مستورات کو گھروں سے کھینچ کھینچ کر نکالا کہ حضرت جعفر کے گھر جاؤ۔ اور تھوڑے ہی عرصہ میں ان کے گھر کہرام مچ گیا۔ رسول کریم صلی السلام نے دریافت 120