خطبات محمود (جلد 14) — Page 121
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء ہے کہ بے دین لوگ بھی ہزار سال سے زیادہ زندہ رہنے کیلئے تیار نہیں ۔ گویا جن کو خدا تعالیٰ پر ایمان نہیں اور سمجھتے ہیں کہ ساری خوشیاں اسی دنیا میں ہیں، ان کی نظر بھی ہزار دو ہزار سال تک ہی جاتی ہے۔ اس سے زیادہ وہ بھی برداشت نہیں کر سکتے ۔ پس یہ دنیا رہنے کیلئے نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ آخرت کیلئے کچھ سامان جمع کرے۔ یہاں وہ اُس مکان کے لئے سامان فراہم کرنے کے واسطے بھیجا گیا ہے جہاں اس نے مستقل رہنا ہے۔ یا یہ کہ اسے موقع دیا گیا ہے کہ دو مقرر شدہ مکانوں میں سے ایک کو اپنے لئے مخصوص کر لے۔ رسول کریم صلی السلام نے فرمایا ہے کہ ہر شخص کا ایک گھر جنت میں اور ایک دوزخ میں ہوتا ہے ۔ لے کوئی نے فرمایاہے کہ کا میں ہوتا ہے۔ انسان تو اپنے اعمال سے جنت کے گھر کو چھوڑ بیٹھتا ہے اور دوزخ کے گھر کو اختیار کر لیتا ہے۔ اور کوئی دوزخ کے گھر کو ترک کر کے جنت کا گھر اختیار کر لیتا ہے۔ اگر ہم قرآن کریم پر نظر ڈالیں تو ایک تیسرا گر وہ ہمیں نظر آتا ہے جو دونوں کو استعمال کرتا ہے۔ پہلے وہ دوزخ کے گھر کی طرف جاتا ہے اور پھر جنت کے گھر کی طرف۔ پس کسی انسان کی موت ایک ایمان دار انسان کیلئے کوئی ایسا حادثہ نہیں جو غیر معمولی ہو یہ قانون اٹل ہے۔ یہ نہ بدلنے والی سنت ہے جس کو صدیق ، شہید، صالح بلکہ انبیاء بھی نہیں بدل سکے۔ لیکن جہاں پر ایک اٹل قانون خدا تعالیٰ نے بنایا ہے کہ ہر انسان موت کا شکار ہوگا وہاں ایک اور اٹل قانون بھی ہے کہ ایک عرصہ تک اکٹھی رہنے والی چیزیں جب ایک دوسرے سے جدا ہوتی ہیں۔ تو دل میں درد محسوس ہوتا ہے۔ رسول کریم صلی ایم ایک دفعہ ایک مجلس میں بیٹھے تھے کہ کوئی شخص آپ کو بلانے آیا کہ آپ کی صاحبزادی بلاتی ہیں دفعہ ایک تھے بلانے کہ کیونکہ آپ کا نواسہ بیمار ہے۔ آپ تشریف لے گئے اور ساتھ دوسرے صحابہ بھی تھے۔ بچہ اُس وقت نزع کی حالت میں اور بہت تکلیف میں تھا۔ آپ نے اسے گود میں اُٹھا لیا۔ اور اس کی حالت کو دیکھ کر آپ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ وہ بچہ وہیں فوت ہو گیا۔ تب ایک صحابی نے جو حقیقت سے آگاہ نہ تھا اور جسے عرفان کا مقام حاصل نہیں تھا کہا کیا اللہ تعالیٰ کا رسول بھی روتا ہے۔ آپ نے فرمایا تمہیں اللہ تعالیٰ نے سنگ دل بنایا ہوگا مجھے رحم دل بنایا ہے ہے۔ تو رسول کریم صلی شمالی کیم جو سب سے زیادہ قرب الہی کے مقام پر تھے، انہوں نے بھی اس بچہ کی جدائی پر تکلیف محسوس کی۔ بلکہ جب اس پر اعتراض کیا گیا تو اسے سنگدلی قرار دیا۔ ایک اور واقعہ مجھے یاد پڑتا ہے اور میرا حافظہ ایک سے زیادہ واقعات کو ملاتا نہیں۔ تو وہ اس طرح ہے 119