خطبات محمود (جلد 14) — Page 118
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء یہاں تک کہ وہ وقت آجائے گا جب اس کی کوششوں کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ پس یاد رکھو بہت سے لوگ نیکیوں سے اس لئے محروم رہتے ہیں کہ وہ دوسروں کی نقل کرنا نیکی کا کمال سمجھتے ہیں۔ اور خیال کرتے ہیں کہ یہی نقل اصل نیکی ہے۔ حالانکہ روحانیت میں ترقی کرنے کا اصل یہ ہے کہ انسان اپنے میلانوں کو دیکھے، ان پر غور کرے اور پھر ان کے مطابق نیکی میں ترقی کرے۔ کوئی میلان ایسا نہیں جسے نیکی میں تبدیل نہ کیا جا سکتا ہو۔ اگر کسی میں غصہ ہے تو یہ کون سی بڑی بات ہے، آخر دنیا میں ایسے لوگ بھی تو ہونے چاہئیں جو جوش رکھتے ہوں تا کہ مظلوم کی اعانت کیلئے بڑھ سکیں۔ اور اگر وہ غصہ نکال دیں گے تو بعض نیکیوں سے محروم رہیں گے انہیں چاہئے کہ وہ بجائے غصہ مٹانے کے اُسے خُبث شرارت اور گمراہی کے مٹانے پر صرف کریں ۔اسی طرح ہر جذ بہ نیکی کی طرف لایا جا سکتا ہے۔ پس اگر تم روحانی ترقی حاصل کرنا چاہتے ہو تو بجائے نقل کرنے کے اپنے جذبات اور شریعت کا مطالعہ کرو۔ اور ان جذبات کو نیکی کے میدانوں میں لے آؤ۔ پھر اس میدان میں اپنے جذبات کو خوب جولانیاں کرنے دو۔ کیونکہ جتنی بھی وہ جولانیاں کریں گے ، اتنی ہی تمہارے لئے نیکیاں لکھی جائیں گی۔ یہ گر ہے جو روحانیت میں کام آ سکتا ہے، اسے یاد رکھنا چاہئے۔ میں نے دیکھا ہے بہت سے لوگ اس لئے نیکیوں سے محروم رہتے ہیں کہ وہ پانی پر زور دیتے ہیں کہ آگ کا کام کرے۔ اور آگ سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ پانی کا کام کرے۔ آگ پانی کا کام نہیں کر سکتی اور پانی آگ کا کام نہیں کر سکتا۔ ریت لوہے کا کام نہیں کر سکتی اور لوہاریت کا کام نہیں کر سکتا۔ ریت کیلئے خدانے اور بہت سے کام مقرر کئے ہیں۔ بلکہ اب تو باریت کا کم نہیں کرسکتا۔ ریت کیلئے دانے او ریت کے پل بھی تیار ہونے لگ گئے ہیں۔ جو سیمنٹ سے بھی زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔ لیکن جہاں ریت اس مفید کام پر صرف ہوتی ہے۔ وہاں پر بڑے رنگ میں بھی استعمال ہو جاتی ہے۔ ایک چور ریت کی مٹھی بھر کر شریف آدمی کی آنکھوں میں جھونک دیتا ہے اور خود بھاگ جاتا ہے پس ریت بڑا کام بھی دے سکتی ہے اور اچھا بھی ۔ اسی طرح لوہے سے اچھا کام بھی لیا جا سکتا ہے اور برا بھی ۔ ایک ہی تلوار ہوتی ہے مگر اس سے ناحق کا خون بھی کیا جا سکتا ہے اور وہی تلوار ملک ، قوم اور مذہب کی حفاظت کیلئے بھی استعمال ہو سکتی ہے۔ پس ہر انسانی جذبہ اچھی طرف بھی جا سکتا ہے اور بری طرف بھی۔ تمہیں چاہیے کہ تم بجائے اپنے جذبات کو بدلنے کے اسی میدان میں ترقی کرنے کی کوشش کرو جو تمہارے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ بعض کا 116