خطبات محمود (جلد 14) — Page 113
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء اس جگہ طبیعت کے بدل جانے سے بھی وہی حداشتراک مراد ہے جو ہر انسان کے اعمال میں پائی جاتی ہے۔ ورنہ یہ تو ظاہر بات ہے کہ مومن سے انسان کافر ہو جاتا ہے اور کافر سے مومن ۔ پھر ایمان میں ترقی کرتے کرتے کہیں کا کہیں نکل جاتا ہے۔ کسی زمانہ میں اس کی طبیعت نا تجربہ کاری کی وجہ سے غصہ اور جوش کی طرف مائل ہوتی ہے پھر عمر ڈھل جانے اور تجربہ حاصل ہو جانے کے بعد نرمی کی طرف اس کا میلان ہو جاتا ہے۔ مگر ایک چیز ہے جو سب میں مشترک ہے اور وہ انسان کا دائرہ عمل ہے۔ اس دائرہ سے کسی کو باہر نکالنا انسانی قدرت میں نہیں۔ جو کچھ کیا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ اس کے نقص کو چھپا دیا جائے جیسے لکڑی پر پالش کر دی جائے تو پالش سے لکڑی کی گرہ دور نہیں ہو جاتی ، البتہ ہوشیار ترکھان مختلف قسم کے رنگوں اور دور پالش وغیرہ سے اس لکڑی کے عیب کو چھپا دیتا ہے۔ اسی طرح جو خامیاں انسانی طبیعت کے اندر ہوتی ہیں، ان پر پردے ڈال دیئے جاتے ہیں۔ اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ كَفَرْنَا عَنْهُمْ سَيا تم سے یعنی ہم مومنوں کی سیئات کا کفارہ کر دیتے ہیں اور ان کے عیوب پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔ پس انسانی فطرت کے اختلاف سے کبھی دنیا میں گھبرانا نہیں چاہئے ۔ مگر بعض لوگ ہوتے ہیں جو فطرتوں کے اختلاف سے گھبرا جاتے ہیں ۔ کسی کو غصے ہوتے دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کیسی بری جماعت ہے، اس کے افراد آپس میں لڑتے ہی رہتے ہیں۔ یا کسی کی حد سے بڑھی ہوئی نرمی کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کیسی بڑی جماعت ہے، اس کے افراد میں جوش ہی نہیں۔ حالانکہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ایسے لوگ خدا تعالیٰ کی قدرت سے ہمیشہ پیدا ہوئے ، ہو رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ کوئی سلسلہ اور کوئی جماعت ان کی طبیعت کو بدل نہیں سکتی۔ جس چیز کو بدلا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ طبیعت کے بداثرات کو کمزور کر دیا جائے یا اس کے بداثرات کو باطل کر دیا جائے۔ اور اس وجہ سے کبھی ان پر غفران کی صفت کام کرتی ہے یعنی ان کے عیوب پر ایسا پردہ ڈال دیا جاتا ہے جس سے عیوب میں کمی آجاتی ہے۔ اور کبھی اس میں تکفیر مد نظر ہوتی ہے یعنی انتہائی کوشش سے کمزوریوں کو اس طرح مٹا دیا جاتا ہے کہ ظاہری نظر ا نہیں دیکھ ہی نہیں سکتی ۔ یہی کام ہے جو مذہب کا ہے۔ اور یہی کام ہے جو انبیاء کرتے ہیں ۔ ورنہ طبیعت انسانی اپنی حد بندی سے باہر نہیں جاسکتی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی بعض کتابوں میں اسی حقیقت پر زور دیا ہے۔ اور غلطی سے بعضوں نے یہ سمجھ لیا ہے 111