خطبات محمود (جلد 14) — Page 99
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء اول تو یہ کہ جب کوئی کلام امام کی موجودگی میں کرتا ہے اور امام کو مخاطب کر کے کرتا ہے تو دوسروں کا حق نہیں ہوتا کہ وہ خود اس میں دخل دیں اور مخاطب کو خود اپنی طرف مخاطب کر کے اس سے گفتگو شروع کر دیں۔ علاوہ اس کے کہ یہ عام آداب کے خلاف ہے، دشمن کو یہ کہنے کا موقع ملتا ہے کہ امام خود جواب نہیں دے سکتا اور اس کے معتقدین کو ضرورت پیش آتی ہے کہ اس کے حملہ کو اپنے اوپر لے لیں۔ چنانچہ ایک دوست کی ایسی ہی سادگی کی وجہ سے ایک دفعہ مجھے یہ بات بھی سنی پڑی۔ کوئی صاحب اعتراض کر رہے تھے کہ ایک جو شیلے احمدی بول اُٹھے یہ بات تو بالکل صاف ہے، اس کا تو یہ مطلب ہے۔ آخر سوال کرنے والے نے چڑ کر کہا میں تو آپ کے امام سے مخاطب ہوں ۔ اگر وہ جواب نہیں دے سکتے تو میں آپ سے گفتگو شروع کر دیتا ہوں ۔ یہ فقرہ اُس دوست نے اپنی سادگی یا بیوقوفی کی وجہ سے کہلوایا۔ کیونکہ عام آداب کے یہ خلاف ہے کہ کسی کی گفتگو میں دخل دیا جائے ۔ یہ محض اعصابی کمزوری کی علامت ہوتی ہے۔ اور اس کے اتنے ہی معنے ہوتے ہیں کہ ایسا شخص اپنے جذبات کو دبا نہیں سکتا۔ ایسی دخل اندازی اس کے علم پر دلالت نہیں کرتی بلکہ اس کی کمزوری اور کم فہمی پر دلالت کرتی ہے۔ پس ہمیشہ اس امر کو مد نظر رکھنا چاہئے کہ جب امام کی مجلس میں امام سے گفتگو ہو رہی ہو تو سب کو خاموش ہو کر سامع کی حیثیت اختیار کرنی چاہئیے ۔ اور کبھی اس میں دخل اندازی کر کے خود حصہ نہیں لینا چاہئے سوائے اس صورت کے کہ خود امام کی طرف سے کسی کو کلام کرنے کی ہدایت کی جائے۔ مثلا بعض دفعہ کوئی ضروری کا ضروری کام آ پڑتا ہے، اس کیلئے مخاطب کرنا پڑتا ہے یا بعض دفعہ قرآن کی کسی آیت کی تلاش کیلئے اگر کوئی حافظ قرآن ہوں تو ان سے آیت کا حوالہ پوچھنا پڑتا ہے۔ یا ہو سکتا ہے کہ کسی کو عیسائیت کی کتب کے حوالہ جات بہت سے یاد ہوں اور ضرورت پر اس سے کلام کرنی پڑے۔ ایسی حالتوں میں سامعین میں سے بھی بعض شخص بول سکتے ہیں مگر عام حالات میں دخل اندازی بالکل ناواجب ہوتی ہے۔ ہماری شریعت نے ان تمام باتوں کا لحاظ رکھا ہے چنانچہ خطبوں کے متعلق بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی ہے کہ اس دوران کلام نہیں کرنی چاہئیے ہے ۔ غرض جب امام سے گفتگو ہورہی ہو تو اس میں دخل نہیں دینا چاہیے کیونکہ اس طرح یا تو بات ناقص اور ادھوری رہ جائے گی اور یا دشمن پر یہ اثر پڑے گا کہ شاید امام اس کا جواب نہیں دے سکتا اور معتقدین نے گھبرا کر اس حملہ کو اپنی طرف منتقل کر لیا ہے پس ایک تو اس امر کا لحاظ 97