خطبات محمود (جلد 14) — Page 97
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء ماں جب کہتی ہے کہ میں پاس ہی ہوں تو وہ چپ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح بعض لوگوں کو فتح نظر نہیں آتی اور وہ گھبرا کر روتے ہیں کہ اب کیا ہوگا۔ لیکن آسمان کے فرشتے کہتے ہیں کہ فتح قریب ہے تو تسلی ہو جاتی ہے۔ اور یوں بھی دیکھو، دنیا میں کون ہے جو خدا تعالیٰ کے کام میں رکاوٹ پیدا کر سکے۔ کیا کوئی ایسی ہستی ہے؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں اور پھر خدا نے ایک فیصلہ کر دیا ہے تو اس میں شبہ کی کیا گنجائش ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس کے وعدوں پر یقین رکھیں ۔ اور وہ بینائی عطا کرے کہ جو کچھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور خدا کے دوسرے مقربین نے دیکھا، وہ سارے دیکھ سکیں۔ اور ہم سے یہ میں سے کوئی ایسا نہ ہو جس کے دل میں کرب اور گھبراہٹ ہو کیونکہ یہ بیماری ہے جو قلت نظر کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔ (الفضل ۲۰۔ اپریل ۱۹۳۳ء) ل الذريته التوبة ٢٠ شرح مواهب اللدنية الجزء الثاني صفحه ۱۲۲ ۱۲۳ دار الكتب العلمية بيروت لبنان ١٩٩٦ء سے بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی ﷺ باب قول النبي سدوا الابواب إلا باب ابي بكر یونس : ۶۵ 95