خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 97

خطبات محمود۔۔96 سال ۱۹۳۳ء اول تو یہ کہ جب کوئی کلام امام کی موجودگی میں کرتا ہے اور امام کو مخاطب کرکے کرتا ہے تو دوسروں کا حق نہیں ہوتا کہ وہ خود اس میں دخل دیں اور مخاطب کو خود اپنی طرف مخاطب کر کے اس سے گفتگو شروع کردیں۔علاوہ اس کے کہ یہ عام آداب کے خلاف ہے دشمن کو یہ کہنے کا موقع ملتا ہے کہ امام خود جواب نہیں دے سکتا اور اس کے معتقدین کو ضرورت پیش آتی ہے کہ اس کے حملہ کو اپنے اوپر لے لیں۔چنانچہ ایک دوست کی ایسی ہی سادگی کی وجہ سے ایک دفعہ مجھے یہ بات بھی سننی پڑی۔کوئی صاحب اعتراض کر رہے تھے کہ ایک جوشیلے احمدی بول اُٹھے یہ بات تو بالکل صاف ہے، اس کا تو یہ مطلب ہے۔آخر سوال کرنے والے نے چڑ کر کہا میں تو آپ کے امام سے مخاطب ہوں۔اگر وہ جواب نہیں دے سکتے تو میں آپ سے گفتگو شروع کر دیتا ہوں۔یہ فقرہ اُس دوست نے اپنی سادگی یا بیوقوفی کی وجہ سے کہلوایا۔کیونکہ عام آداب کے یہ خلاف ہے کہ کسی کی گفتگو میں دخل دیا جائے۔یہ محض اعصابی کمزوری کی علامت ہوتی ہے۔اور اس کے اتنے ہی معنے ہوتے ہیں کہ ایسا شخص اپنے جذبات کو دبا نہیں سکتا۔ایسی دخل اندازی اس کے علم پر دلالت نہیں کرتی بلکہ اس کی کمزوری اور کم فہمی پر دلالت کرتی ہے۔پس ہمیشہ اس امر کو مد نظر رکھنا چاہیے کہ جب امام کی مجلس میں امام سے گفتگو ہو رہی ہو تو سب کو خاموش ہو کر سامع کی حیثیت اختیار کرنی چاہیئے۔اور کبھی اس میں دخل اندازی کر کے خود حصہ نہیں لینا چاہیے سوائے اس صورت کے کہ خود امام کی طرف سے کسی کو کلام کرنے کی ہدایت کی جائے۔مثلاً بعض دفعہ کوئی ضروری کام آپڑتا ہے، اس کیلئے مخاطب کرنا پڑتا ہے یا بعض دفعہ قرآن کی کسی آیت کی تلاش کیلئے اگر کوئی حافظ قرآن ہوں تو ان سے آیت کا حوالہ پوچھنا پڑتا ہے۔یا ہو سکتا ہے کہ کسی کو عیسائیت کی کتب کے حوالہ جات بہت سے یاد ہوں اور ضرورت پر اس سے کلام کرنی پڑے۔ایسی حالتوں میں سامعین میں سے بھی بعض شخص بول سکتے ہیں مگر عام حالات میں دخل اندازی بالکل نا واجب ہوتی ہے۔ہماری شریعت نے ان تمام باتوں کا لحاظ رکھا ہے چنانچہ خطبوں کے متعلق بھی رسول کریم اللہ نے تاکید فرمائی ہے کہ اس دوران کلام نہیں کرنی چاہیے اے۔غرض جب امام سے گفتگو ہو رہی ہو تو اس میں دخل نہیں دینا چاہیے کیونکہ اس طرح یا تو بات ناقص اور ادھوری رہ جائے گی اور یا دشمن پر یہ اثر پڑے گا کہ شاید امام اس کا جواب نہیں دے سکتا اور معتقدین نے گھبرا کر اس حملہ کو اپنی طرف منتقل کرلیا ہے پس ایک تو اس امر کا لحاظ