خطبات محمود (جلد 14) — Page 91
خطبات محمود 91 سال ۶۱۹۳۳ رم گھبراہٹ محسوس ہوئی لیکن اپنی جان کیلئے نہیں بلکہ رسول کریم ﷺ کی جان کیلئے۔آپ نے سوچا کہ دشمن سر پر ہے، بظاہر اب پکڑے جانے میں کسی قسم کے شبہ کی گنجائش نہیں ہو سکتی، غار کا منہ کھلا ہے اور ہم بالکل سامنے ہیں۔لیکن رسول کریم ﷺ جانتے تھے کہ یہ لوگ خدا تعالی کے تصرف کے ماتحت ہیں۔اس لئے آپ نے کہا- لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا - چونکہ رسول کریم ﷺ کی نظر حضرت ابو بکر سے بہت زیادہ دور رس اور تیز تھی، اس لئے وہ ان باتوں کو بھی دیکھ رہے تھے جو حضرت ابو بکر کو نظر نہ آتی تھیں۔یوں حضرت ابوبکر کی نظر بھی بہت تیز تھی۔ایک دفعہ رسول کریم ﷺ نے ایک خطبہ بیان کیا کہ اب مسلمانوں کیلئے فتوحات کا زمانہ قریب آگیا ہے۔یہ سن کر آپ رونے لگ گئے۔یہ دیکھ کر کسی نے کہا کہ دیکھو بڑھے کی مت ماری گئی۔رسول کریم و فتوحات کی بشارت دیتے ہیں اور یہ رورہا ہے لیکن آپ نے بتایا کہ جب امت کو فتح حاصل ہو جائے تو نبی کا کام ختم ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے اپنے پاس بلا لیتا ہے۔تم لوگ فتح پر خوش ہو لیکن مجھے آنحضرت ا کی صحبت میں خوشی ہوتی ہے ہے۔اور آپ کا یہ قیافہ صحیح نکلا کیونکہ اس کے کچھ عرصہ بعد ہی رسول کریم و وفات پاگئے۔حضرت ابو بکر نے جو کچھ بیان کیا یہ سنت اللہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے پاس بھی ایک شخص نے بیان کیا کہ یہ بات بہت گھبراہٹ ہے کہ احمدیت کی فتح جلد جلد نہیں ہوتی۔اور بعض لوگوں نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملادی۔لیکن آپ کے چہرہ پر افسردگی کے آثار ظاہر ہو گئے۔اور فرمایا۔جب فتح آجاتی ہے تو پھر نبی کی ضرورت نہیں رہتی۔ابھی جماعت کی تربیت کا کام باقی ہے جب یہ ختم ہو جائے گا تو اللہ تعالی فتوحات کے دروازے بھی کھول دے گا۔تو حضرت ابوبکر کی نگاہ بیشک بہت صحیح تھی، اس نے وہ کچھ دیکھا جو اور نہ دیکھ سکتے تھے۔مگر رسول کریم ﷺ کی نظری تیزی اس میں بھی نہ تھی اس لئے غار ثور میں آپ کو گھبراہٹ کا ہونا لازمی تھا۔- غرض دنیا کے ظاہری حالات حقیقت نہیں ہوتے حتی کہ بعض فلسفی تو انہیں کوئی قیمت ہی نہیں دیتے۔گو یہ غلط عقیدہ ہی ہے لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو ایک حد تک صحیح بھی ہے۔ظاہر کی سب کیفیتیں قابل اعتبار نہیں ہوتیں۔اسی طرح ساری دماغی کیفیتیں بھی صحیح نہیں ہوتیں۔دونوں مل کر صحیح ہوتی ہیں۔اور اس صحیح چیز کا مقام کسی کو معلوم نہیں ہوتا۔سوائے ان لوگوں کے جو اللہ تعالیٰ سے خبر پاتے ہیں۔یہ مختلف نظروں کی جنگ کئی بار دنیا میں