خطبات محمود (جلد 14) — Page 292
خطبات محمود ۲۹۲ سال ۱۹۳۳ء اگر تھیٹر دیکھنے کا شوق ہو تو بجائے اس کے کہ رسول کریم ﷺ کے نام کے پیچھے تھیٹر دیکھا جائے۔ایسے لوگوں کو چاہیئے کہ وہ ایک دن تھیٹر کا مقرر کرلیں۔رسول کریم ﷺ کی ذات کو اس حقیر چیز میں کیوں لایا جاتا ہے۔پس آئندہ کیلئے میں پھر نصیحت کرتا ہوں کہ بیشک اس موقع یر جلوس نکلے مگر اس میں ایسے کلمات ہوں جو تبلیغی ہوں۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی نظمیں پڑھی جائیں۔جن میں رسول کریم اس کے کارناموں کا ذکر ہے تاکہ جو لوگ ہمارے جلسہ میں نہیں آتے وہ اپنے گھروں پر ہی ہماری باتیں سن لیں۔گویا یہ بھی ایک تبلیغ کا رنگ ہوگا اور میں اس سے منع نہیں کرتا۔گو اس رنگ میں جلوس بھی باہر ہی مفید ہوتے ہیں۔یہاں تو ایک حد تک تماشہ ہی نظر آتا ہے کیونکہ تبلیغی باتیں ہر وقت لوگوں کے سننے میں آتی رہتی ہیں۔مگر باوجود اس کے یہاں بھی جلوس اگر اس خیال سے نکال لیا جائے کہ جنہیں ہماری باتیں سننے کا اتفاق نہیں ہوتا وہ اس طرح سن لیں گے تو کوئی حرج نہیں۔مگر یہ ضروری ہے کہ جلوس کے دوران ایسے کلمات استعمال کئے جائیں جن میں رسول کریم ای کے کارناموں، آپ کے اخلاق اور آپ کی قربانیوں کا ذکر ہو۔اسی رنگ میں نظمیں بھی ہونی چاہئیں تاکہ جو لوگ نثر سننے کیلئے تیار نہیں ہوتے وہ نظم سن کر ہی فائدہ حاصل کر سکیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو اتنی نظمیں لکھی ہیں ان سے منشاء یہی ہے کہ و لوگ نثر پڑھنا نہیں چاہتے وہ نظم پڑھ لیا کریں۔غرض ہر ایسی تدبیر جو جائز ہو اور مومن کے وقار کے مطابق ہو اس کے اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ اچھی بات ہے۔لیکن یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب ان جلوسوں کو ایک حد کے اندر رکھا جائے۔مثلاً ایسے محلوں میں سے جلوس کا گزرنا بھی بے فائدہ ہے جہاں خالص اپنی جماعت کے لوگ رہتے ہیں۔کیونکہ محض ایک رسم ہو گی۔ہاں اگر ایسی گلیوں یا محلوں میں سے جلوس کو گزارا جائے جہاں غیر احمدی رہتے ہوں اور جنہیں صحیح رنگ میں رسول کریم ﷺ کی زندگی کے حالات معلوم نہ ہوں یا جہاں غیراحمدی واعظ رسول کریم اللﷺ کی ایسی خوبیاں بیان کرتے ہوں جن سے حقیقت میں آپ کی فضیلت ثابت نہیں ہوتی۔مثلاً یہ کہ آپ کا حلیہ ایسا تھا، آنکھیں ایسی تھیں، بال ایسے تھے۔یا ہندوؤں اور سکھوں کے مکانات کے پاس سے یا بازاروں میں سے جلوس گزارا جائے۔جہاں اردگرد کے دیہات کے بھی بعض لوگ موجود ہوتے ہیں۔اور اس طرح انہیں باتیں پہنچ سکیں تو اس سے فائدہ ہو سکتا ہے۔دوسری چیز جس کی طرف میں ہمیشہ توجہ دلاتا رہا ہوں۔اور۔۔