خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 290

خطبات محمود ٢٩٠ سال ۱۹۳۳ پھنس گیا ہے۔نواب صاحب کو اطلاع دی گئی۔کہ اب اسے سمجھا دیا گیا ہے۔وہ یہی کہے گا کہ میں شمر ہوں۔مگر جب پھر نواب صاحب گھوڑے دوڑاتے ہوئے اس جوش سے آئے کہ ابھی اس کی بوٹیاں کردیں۔اور اس سے پوچھا کہ تو کون ہے۔وہ کہنے لگا میں امام حسین ہوں۔نواب صاحب پھر واپس چلے گئے۔اسی افراتفری میں وہ وہاں سے بھاگا اور انگریزی گورنمنٹ کی حدود میں پناہ گزیں ہو گیا۔گورنمنٹ نے شکایت پہنچنے پر جب معاملہ کی تحقیق کی اور اسے درست پایا تو اسی وقت سے وہاں انگریز وزیر جانے لگا۔اور نواب صاحب کے اختیارات میں کمی کر دی گئی۔اب دیکھ لو بات کہاں سے کہاں تک پہنچ گئی۔کجا یہ کہ لوگ اس واقعہ کو محبت کے رنگ میں سنتے اور کجا یہ کہ پھر یہ ایک پیشہ بن گیا۔رلانے والے بھی بطور پیشہ رلاتے ہیں۔اور بعض رونے والے بھی بطور پیشہ کے روتے ہیں۔چنانچہ ایک ایک آنے چھ چھ پیسے بلکہ پلاؤ کی ایک رکابی پر رونے والے مل جاتے ہیں۔مگر کیا کوئی خیال کر سکتا ہے کہ اسلام کا یہی منشاء تھا کہ لوگ اس واقعہ کا ذکر کر کے روئیں یا رُلائیں۔یا کوئی خیال کر سکتا ہے کہ اس سے غیر مذاہب والوں پر عمدہ اثر پڑ سکتا ہے۔وہ تو یہی سمجھتے ہیں کہ پاگل ہیں جو رو رہے ہیں۔اور واقعہ میں جو لوگ پیسے لے کر روئیں ان کے رونے کا دلوں پر کیا اثر ہو سکتا ہے۔بے شک ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو عشق و محبت سے کام کرتے اور روتے ہیں۔اور گو ہم انہیں غلطی پر کہہ سکتے ہیں لیکن پاگل نہیں کہہ سکتے۔مگر جو لوگ پیسے لے کر ماتم میں شریک ہوتے ہیں ساف طور پر ان کے طرز سے ہی پتہ لگ جاتا ہے کہ یہ لوگ دل سے نہیں رور ہے۔کیونکہ ایک طرف تو روتے جاتے ہیں۔اور پھر تھوڑی دیر کے بعد دوسروں کی طرف آنکھ اٹھا کر تماشہ دیکھنے لگ جاتے ہیں۔گو ان کی زبان پر افسوس کے الفاظ ہوتے ہیں مگر ان کی نگاہ سے خالی ہر طرف گھوم رہی ہوتی ہے۔اور ہر شخص انہیں دیکھ کر کہتا ہے کہ خبر نہیں انہیں کیا ہوگا۔یہ پاگل ہو گئے ہیں یا حد درجہ ہیں یا حد درجہ کے لالچی ہیں کہ چند پیسوں کے عوض رورہے ہیں۔غرض ایک ہی چیز ہے مگر پہلے اخلاص اور عقیدت کے اظہار کا ذریعہ سمجھی گئی اور بعد میں تصنع کی صورت اختیار کر گئی۔جس پر آج تک یورپین مصنفین ہنسی اڑاتے ہیں۔ہم رسول کریم ﷺ کی سیرت پر جلسے منعقد کرنے کیلئے جو دن مقرر کیا ہے اس کی ایک ہی غرض ہے۔اور وہ یہ کہ لوگوں کو معلوم ہو رسول کریم اے نے بنی نوع انسان پر کیا کیا احسانات کئے۔آپ نے کیا کیا قربانیاں کیں اور کس رنگ میں لوگوں کے سامنے ایک مکمل وہ نے