خطبات محمود (جلد 14) — Page 271
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء ہے۔ان نقائص کو دور کرانے کیلئے میں نے تشخیص کرائی اور معلوم ہوا پچاس فیصدی سے بھی زیادہ لوگ ایسے ہیں جو صحیح طور پر باقاعدگی کے رنگ میں چندہ نہیں دیتے۔تشخیص کے نتیجہ میں بعض جماعتوں کا سوا یا اور بعض کا ڈیوڑھا اور بعض کا ڈگنا چندہ ہو گیا۔اور مجموعی طور پر جماعت کے چندہ میں پچاس فیصدی کے قریب اضافہ ہوا۔گزشتہ سال کی پہلی ششماہی کے خاتمہ پر جماعت پر چالیس ہزار روپے قرض تھا۔مگر اس سال پہلی ششماہی پر کوئی قرض نہیں ! نکلا۔مگر جہاں یہ خوشی کی بات ہے کہ جماعت نے پچھلے چھ ماہ میں چندوں کی ادائیگی پر پورا زور لگایا اور کو پورا تو پھر بھی نہیں کہا جاسکتا۔ہاں یہ ضرور کہنا پڑتا ہے کہ پہلے سے زیادہ زور لگایا۔اور باوجود بجٹ میں زیادتی ہونے کے خرچ کا بجٹ گزشتہ سال کے مقابلہ میں بڑھا نہیں۔اور قرضہ میں بھی زیادتی نہیں ہوئی۔یا حسابی رنگ میں ایسی نمایاں زیادتی نہیں ہوئی جسے بیان کیا جاسکے۔وہاں پچھلے سال کا ستر اکہتر ہزار روپیہ کا قرض ابھی تک ادا نہیں ہوا۔گو چھ مہینہ میں بجائے بڑھنے کے قرض اپنی جگہ ٹھرا رہا مگر قرض کا اپنی جگہ پر قائم رہنا بھی کوئی خوشی کی بات نہیں۔کب تک ستر اکہتر ہزار کا قرض چلا جائے گا۔اسے بہر حال ادا کرنا ہے۔مگر اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ پچھلے ماہ سے ادائیگی چندہ کے متعلق جماعت کی توجہ میں کمی آگئی ہے۔اور بعض ہفتوں میں تو اتنی کمی ہوئی ہے کہ حیرت ہو جاتی ہے۔پچھلے سال انہیں دنوں جماعت کے چندہ کی ہفتہ وار چار ہزار آمد تھی مگر اس سال دو ہزار سے کچھ ہی اوپر ہے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ جس طرح برے بیل کو اس کی عادت ہو جاتی ہے کہ کوئی اسے کچھ کہہ دے اور لٹھ لے کر اس کے پیچھے لگا رہے، تب وہ چلے۔اسی طرح ہماری جماعت کو بھی اس بات کی عادت ہو گئی ہے کہ اسے جگایا اور بیدار کیا جائے۔ہلایا اور جھنجوڑا جائے۔اگر اسے بیدار نہ کیا جائے تو وہ نہیں اُٹھتی۔لیکن اس طرح کام کرنے والوں کو کوئی ثواب نہیں ملے گا۔اور قیامت کے دن وہ اپنے نامہ اعمال کو خالی دیکھیں گے۔اور انہیں معلوم ہو گا کہ ان کی تمام نیکیاں یا تو ناظر بیت المال کے نام لکھی ہوئی ہوں گی یا محصلین کے نام اور یا میرے نام لکھی ہوئی ہوں گی۔کیونکہ جو زور دے کر دوسروں کو چلاتے ہیں ثواب انہیں کو ملے گا۔باقی کام کرنے والوں کو اُسی وقت ثواب مل سکتا ہے جب وہ بغیر کسی کے کہے خود بخود کام کرتے چلے جائیں۔لیکن اگر کوئی اور شخص ان سے کام کراتا ہے تو پھر یہ ان کیلئے ثواب کا موجب نہیں بلکہ کہنے والے کو اس کا ثواب ملے گا۔اور جبکہ دنیا میں اس خیال سے مطمئن بیٹھے ہوئے