خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 229 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 229

خطبات محمود ۲۲۹ ۲۵ تبلیغ احمدیت کے متعلق جماعت احمدیہ کی پوزیشن (فرموده ۶ - اکتوبر ۱۹۳۳ء) سال ۱۹۳۳ تو تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:-۔ہر شخص اس بات کو جانتا ہے یعنی ہر ایسا شخص جس نے سلسلہ احمدیہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا ہو، جانتا ہے کہ ہماری جماعت کا اصل مقصد اشاعتِ مذہب، اشاعت دین اور قیام دین ہے۔اشاعت دین اور قیامِ دین کے ساتھ ضمنی تعلق رکھنے والی دوسری چیزوں کی طرف بھی ہم توجہ کر لیتے ہیں اور بعض دفعہ توجہ کرنی پڑتی ہے۔مگر ہماری وہ توجہ ایسی ہی ہوتی ہے۔جیسے ضرورت کے وقت کسی شخص کو پاخانہ میں جانا پڑتا ہے۔پاخانہ کوئی دلکش یا سیر کی جگہ نہیں ہوتی مگر انسان وہاں جانے پر مجبور ہوتا ہے۔اور جب خدا تعالیٰ کے قانون کے ماتحت اس کا جسم پاخانے کے متعلق احتیاج محسوس کرتا ہے وہ وہاں جاتا ہے۔اسی طرح اور کئی انسانی افعال ہیں۔گو بظاہر جسمانی نظر آتے ہیں مگر بعض دفعہ روحانی ضرورتوں کے ماتحت کرنے پڑتے ہیں۔بسا اوقات کام کے اوقات انسان پر ایسے آتے ہیں کہ وہ چاہتا ہے کہ کھانا نہ کھائے یا وہ چاہتا ہے کہ اس کی نیند ہی اُڑ جائے۔مگر باوجود کسی اشد ضرورت کے اور باوجود اس بات کے کہ وہ اس وقت نہ صرف اپنی بلکہ اپنے بیوی بچوں کی جان قربان کرنے کیلئے بھی تیار ہوتا ہے، اسے کھانا کھانا پڑتا ہے، سونا پڑتا ہے۔اس لئے کہ طبیعت میں اللہ تعالٰی نے کھانے اور سونے کی احتیاج رکھی ہے۔اور گو یہ معاملات بظاہر جسمانی نظر آتے ہیں مگر اس وقت روحانی بن جاتے ہیں۔کیونکہ اگر وہ کھانا نہ کھائے گا تو اس کے قومی مضمحل ہو جائیں گے۔اور اگر وہ سوئے