خطبات محمود (جلد 14) — Page 227
خطبات محمود ۲۲۷ سال ۱۹۳۳ء کہ خود ناظر امور عامہ ہسپتال میں جاتے اور وہاں کافی عرصہ مریضوں کی نگہداشت کے متعلق کام کرتے۔میرے نزدیک چاہیئے یہ تھا کہ بجائے اس کے کہ خود ناظر امور عامہ وہاں جاتے ایک افسر مقرر کر دیا جاتا جو وہاں کے کام کی نگرانی کرتا۔اور ناظر امور عامہ تمام نظام کی نگرانی کرتے۔اسی طرح اس لئے بھی نقص ہوا کہ کام کرنے والے لوگوں کو پتہ نہیں تھا کہ ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں۔مثلاً خیمے لگانا یہ ڈاکٹروں کا کام نہیں بلکہ والٹیئروں کا تھا۔اس امر کو سمجھنے کی وجہ سے سے بھی نقص پیدا ہو گئے۔آئندہ کیلئے چاہیے کہ ایسے موقعوں پر ایک کمانڈر انچیف مقرر کر دیا جائے اور اس کے ماتحت کام کرنے والوں کے الگ الگ فرائض مقرر کردئیے جائیں۔اور کمانڈر انچیف کبھی بھی ناظر امور عامہ نہیں ہونا چاہیئے۔کمانڈر انچیف اور وزارت کا عہدہ کبھی بھی اکٹھا نہیں ہوا۔اور اگر اکٹھا کیا گیا تو کام خراب ہو گیا۔خلفاء بھی کمانڈر انچیف نہیں ہو سکتے۔ہاں انبیاء یہ فرض بھی سرانجام دیتے ہیں کیونکہ ان کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ ہر وقت لوگوں کی تربیت کریں۔اور ان کی موجودگی ہر وقت ہی ضروری ہوتی ناظر امور عامہ کا یہ کام ہے کہ ایسے موقعوں پر وہ جس کو کمانڈر انچیف مقرر کریں۔اور جو اس کے ماتحت ہوں۔ان کے متعلق دیکھیں کہ وہ دیانتداری اور پوری بسرگرمی سے کام کر رہے ہے۔ہیں یا نہیں۔پس ایسے موقعوں پر امور عامہ کو چاہیے کہ وہ زیادہ تنظیم اور زیادہ آرگنائزیشن کا ثبوت پیش کرے کیونکہ وبائی ایام ایک عام مصیبت کے ایام ہوتے ہیں۔انتظام ایسا ہونا چاہیے کہ کوئی گھبراہٹ اور افراتفری پیدا نہ ہو۔میں ایک دفعہ پھر امور عامہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ فیصلہ جو مجلس شوری کے ذریعہ میں نے کیا تھا یہ نہیں تھا کہ وہ ۳۵ آدمیوں کی ایک کور بنادے۔بلکہ میرا فیصلہ یہ تھا کہ پندرہ سال سے لے کر ۲۵ سال کی عمر تک کے تمام نوجوانوں کو اس میں جبری طور پر بھرتی کیا جائے تاکہ ان کے اخلاق کی نگرانی ہو اور تاکہ ان نوجوانوں کو قومی اور دینی خدمت کا موقع مل سکے۔کیونکہ بعض موقعوں پر قومی خدمت کرنا بھی ضروری ہو جاتا ہے۔اور گو ہمارے لئے دین مقدم ہے مگر چونکہ بعض قومی کام بھی دین کے تابع ہوتے ہیں اس لئے ان میں بھی حصہ لینا چاہیے۔اور اپنے اندر قربانی کا مادہ پیدا کرنا چاہیئے۔اسی طرح جہاں میں بعض لوگوں پر اس لئے اظہارِ افسوس کرتا ہوں کہ انہوں نے کام میں رکاوٹیں ڈالیں، وہاں کور کے نوجوانوں کے کام پر اظہار خوشنودی کرتا ہوں اور اللہ تعالٰی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ