خطبات محمود (جلد 14) — Page 226
خطبات محمود ۲۲۶ سال ۱۹۳۳ء علاوہ باقی قادیان کے لوگوں کو رقعوں میں دعا کیلئے لکھنے کی بجائے زبانی یاد دہانی کرانی چاہیے۔مگر جس طرح وہ غلطی ہے اسی طرح یہ بھی غلطی ہے کہ اہم ضرورت درپیش ہو اور مجھے اطلاع نہ کرائی جائے۔اگر کسی شخص کو ہیضہ ہو جائے یا کوئی اور وبائی مرض ، تو چاہے دن ہو یا رات اگر اس کیلئے کوئی انتظام نہیں ہوتا تو ہر وقت مجھے اطلاع کرائی جاسکتی ہے اور خدا تعالی کے فضل سے میں اس کیلئے انتظام کر سکتا ہوں۔مگر بعض لوگوں نے اس وقت شکوہ کیا جب مریض فوت ہو چکا یا اچھا ہو کر ہسپتال سے آگیا۔فوجوں میں قانون ہے کہ جب کوئی شکایت پیدا ہو اسی وقت پیش کرو۔بعد میں اگر شکایت کی جائے تو اس پر کوئی توجہ نہیں کی جاتی۔بلکہ ابھی پچھلے دنوں دو افسروں کی لڑائی ہوئی جب مقدمہ چلا تو بڑے افسر کو سزا ہوئی۔مگر چھوٹے کو بھی اس وجہ سے سزا دی گئی کہ اس نے اپنے جواب دعوئی میں ایک چھ مہینہ پہلے کی اپنے افسر کی کسی غلطی کا ذکر کیا تھا۔اسے کہا گیا کہ تو نے اِس کا اُسی وقت ذکر کیوں نہ کیا؟ اگر نہیں کیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم یہ غلطی معاف کر چکے تھے۔اور اب کرتے ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم کینہ تو ز ہو۔غرض اس وقت کی شکایت فائدہ دے سکتی ہے جب اس کا ازالہ کیا جاسکے۔بعد میں شکایت کرنا کینہ پر دلالت کرتا ہے۔اور کینہ رکھنا مومن کا کام نہیں تا۔چاہیئے کہ جس وقت کوئی شکایت پیدا ہو اور ضروری ہو، وہ اسی وقت پیش کی جائے۔ہاں حض شکایتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو اہم نہیں ہوتیں۔ان میں اگر دو چار دن کی دیر ہو جائے تو کوئی بات نہیں۔پس ہسپتال میں گو نقائص بھی تھے مگر ایسے نقائص دور ہو سکتے تھے۔پھر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ مریضوں کا اسی میں فائدہ ہوتا ہے کہ انہیں ہسپتال پہنچادیا جائے۔کیونکہ اس طرح تمام مریض کسی نہ کسی ڈاکٹر کے ہر وقت زیر نظر رہتے ہیں۔لیکن گھروں میں علیحدہ علیحدہ ڈاکٹر اس توجہ سے مریضوں کو نہیں دیکھ سکتے جس طرح وہ ایک جگہ دیکھ سکتے ہیں۔پھر اس میں یہ بھی فائدہ ہے کہ مرض اس طرح محدود جگہ میں رہتا ہے اور زیادہ شدت سے نہیں پھیل سکتا۔پس یہ جماعت کے فائدہ کی باتیں ہیں۔مگر باوجود اس کے بعض نے کنوؤں میں دوائی ڈالنے والے بچوں کو گالیاں دیں۔چونکہ وہ طالب علم ہیں اس لئے قابل معافی ہیں۔ورنہ ایسے موقع پر شکایت کرنا بھی درست نہیں ہو سکتا۔جو لوگ خدا کیلئے کام کرتے ہیں، وہ اس بات کی پرواہ نہیں کیا کرتے کہ لوگ انہیں کیا کہتے ہیں۔مگر چونکہ وہ بچے ہیں اور اخلاق کا اعلیٰ معیار ابھی نہیں سمجھتے، اس لئے قابل معذوری ہیں۔اس نظام میں ایک نقص یہ بھی ہو گیا