خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 224

سال ۱۹۳۳ء خطبات محمود۔اس کے کہ وہ بچے تھے اور ان کیلئے کھیلنے کا موقع تھا، انہوں نے ایسا نمونہ دکھایا جو دوسروں کیلئے قابل شرم ہے۔اور مجھے بھی اس لئے شرم آئی کہ میں نے دیکھا میرے بچے ان میں نظر نہ آئے۔میں پوچھنے والا ہی تھا کہ میرے بچے ان میں کیوں شامل نہیں ہوئے اور میں نے اپنی ایک بیوی سے آج ہی اظہار افسوس کیا کہ میں نے تمہارے بچوں کو ان خدمت کرنے والے بچوں میں نہیں دیکھا جس کا مجھے بہت دکھ ہے۔جب قومی مصیبت کا وقت آئے تو ہر فرد کا کام ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو بطور والٹیئر پیش کرے۔فردی مصیبتوں میں بھی اسلام نے ہمدردی کا حکم دیا ہے اور قومی مصیبت تو ایسا رنگ رکھتی ہے جس میں ہمدردی کے لحاظ سے کسی قسم کا دریغ کرنا انسان کو ایمان سے خارج کر دیتا ہے۔پس نہ صرف یہ کہ لوگوں کو مزاحم نہیں ہونا چاہیے تھا بلکہ ہر ماں باپ کو محسوس کرنا چاہیے تھا کہ ہمارے بچوں کو اس میں کیوں شامل نہیں کیا گیا۔میں نے بیشک احمدیہ کور" کے نوجوانوں کو ہی اس غرض کیلئے تجویز کیا تھا مگر مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کور میں صرف پینتیس (۳۵) نوجوان ہیں۔اگر مجھے معلوم ہوتا کہ والٹیئروں کی اس قدر قلت ہے تو میں حکم دیتا کہ اپنے آپ کو جو شخص چاہے اس خدمت کیلئے پیش کرے۔میں یہی خیال کرتا رہا اگو میں پریڈ کے موقع پر دیکھ چکا تھا) کہ والٹیئر صرف اسی قدر نہیں بلکہ باقی پچھلے سال سیکھ چکے ہیں، وہ شامل نہیں کئے گئے۔اگر مجھے معلوم ہوتا کہ اس قدر والٹیئر ہیں تو میں کہتا کہ باقی نوجوانوں سے بھی امداد حاصل کی جائے تاکہ کسی غلط فہمی کے باعث کوئی نوجوان ثواب سے محروم نہ رہ جائے۔پس ایک طرف تو میں ان نوجوانوں کی خدمت پر اظہار خوشنودی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ان کی کمزوریوں پر پردہ ڈالے۔انہیں نیکیوں کی توفیق عطا فرمائے اور اعلیٰ درجہ کی ترقیات عطا کرے۔اور دوسری طرف میں جماعت کے ان لوگوں پر اظہار افسوس کرتا ہوں جنہوں نے جہالت کا نمونہ دکھایا۔یاد رکھو ایمان اور علم اکٹھے ہوتے ہیں۔ایمان اور جہالت اکٹھے نہیں رہ سکتے۔الا مَا شَاءَ اللہ کسی کو غلطی لگے تو یہ اور بات ہے۔حضرت عمر " کے زمانہ میں ایک دفعہ شدید طاعون پھیلا۔آپ نے صحابہ سے مشورہ لیا کہ کیا کرنا چاہیئے نے کہا کہ لوگ پہاڑوں پر پھیل جائیں ہے۔آج بھی طاعون کا یہ بہترین علاج سمجھا جاتا ہے کہ لوگ کھلی جگہوں میں پھیل جائیں۔اس وقت ایک صحابی ایسے بھی تھے۔جن کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی وہ حضرت ابو عبیدہ " تھے۔جو کمانڈر انچیف تھے اور بہت بڑے صحابی تھے۔