خطبات محمود (جلد 14) — Page 223
خطبات محمود بیٹھے ٣٢٣ سال ۱۹۳۳ء ہو۔وہ کہنے لگا سایہ میں بیٹھوں تو کیا دو گے۔وہ دوا جو لوگوں کی جانیں بچانے کیلئے کنوؤں میں ڈالی گئی اس کے ڈلوانے سے نہ صرف بعض لوگوں نے انکار کیا بلکہ ڈالنے والوں کو گالیاں دیں۔میں حیران ہوں کہ ایک تو وہ ہیں جو اپنی جانوں کو خطرات میں ڈال کر مریضوں کی نگہبانی کرتے ہیں۔گلیوں، بازاروں اور کنوؤں کی صفائی کا اہتمام کرتے ہیں۔اور ایک گھر بیٹھے کام کرنے والوں کو بُرا بھلا کہتے ہیں۔پھر ڈاکٹر جو کام کرتے ہیں، ان کی جان بھی خطرے میں ہوتی ہے۔ہماری جماعت کے ایک نہایت ہی مخلص دوست ڈاکٹر بوڑے خان صاحب تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں میں بھی ان کا ذکر آتا ہے۔ایک دفعہ ان کے پاس ایک مریض آیا۔انہوں نے اس کا آپریشن کیا۔وہ بیمار تو شاید اچھا ہو گیا۔مگر اس کے زہر کی وجہ سے ان کا دوسرے دن انتقال ہو گیا۔ان کی جلد پر کچھ خراش تھی۔جس سے وہ زہر سرایت کر گیا اور وفات پاگئے۔پس ڈاکٹر کمپونڈر اور منتظم اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں اور یہ ان کا احسان ہوتا ہے۔لیکن بجائے ان کی قدر کرنے کے اُلٹا اُن پر ناراض ہونا بہت قابل تعجب بات ہے۔ایسے موقع پر چاہیئے تو یہ تھا کہ لوگ کہتے ہمارا نظام زیادہ حرکت کیوں نہیں کرتا۔اور بجائے اس کے کہ کنوؤں میں دوائی ڈالنے پر انہیں اعتراض ہوتا وہ کہتے کہ اور دوائی کیوں نہیں ڈالی گئی۔چنانچہ مجھے کئی دنوں تک یہ اعتراض رہا کہ کنوؤں میں دوائی ڈالی گئی ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں۔کیونکہ جو پانی ہمارے ہاں آتا تھا وہ اتنا سرخ نہیں ہوتا تھا جتنا کیڑوں کی ہلاکت کیلئے ہونا چاہیے۔اور میری طرف سے اصرار تھا کہ اور دوائی ڈالو تاکہ پانی صاف ہو سکے۔پس ان دنوں مجھے بعض لوگوں کی عجیب قسم کی ذہنیت معلوم ہوئی۔اور پتہ لگا کہ صرف ہماری جماعت میں بلکہ قادیان میں ایسے آدمی موجود ہیں جو ایسے نازک وقت میں تین چار دن بھی پانی کی معمولی سی تکلیف برداشت نہیں کرسکتے۔حالانکہ یہاں کثرت سے نلکے ہیں جن کا پانی نسبتا اچھا سمجھا جاتا ہے اور پانی کی زیادہ تکلیف محسوس نہیں ہو سکتی۔اگر ایسے لوگ جہاں نلکوں کا پانی نہ ملتا ہو شکوہ کریں تو ان کا شکوہ بھی درست نہیں سمجھا جاسکتا مگر جہاں کثرت سے نلکے ہوں، وہاں لوگوں کا دو چار دن کیلئے تکلیف اُٹھا لینا کوئی بڑی بات نہیں مگر مجھے افسوس ہے کہ بعض لوگوں نے اس موقع پر اپنے آپ کو فیل شدوں میں داخل کیا اور پاس شدگان سے نکال لیا۔پھر ان بچوں کو جنہوں نے اپنی جانیں خطرہ میں ڈالیں، گالیاں دینا اور بھی قابل شرم بات ہے۔انہیں چھٹیاں تھیں اور ان کے یہ کھیلنے کودنے کے دن تھے مگر باوجود