خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 219 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 219

خطبات محمود ۲۱۹ سال ۱۹۳۳ء کے اندر یہ دونوں چیزیں پائی جاتی ہیں۔اگر وہ ایک قسم کی چیزیں دیکھے اور دوسری قسم کی چیزوں کو نہ دیکھے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ کسی ابتلاء میں ڈالا گیا ہے۔ورنہ جس شخص کو خدا تعالیٰ اپنا حقیقی قرب عطا کرتا ہے، اسے دونوں لحاظ سے کمال دیتا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے جہاں نماز روزہ اور حج کی عبادت مقرر کی ہے وہاں اس نے زکوٰۃ صدقات اور بنی نوع انسان سے شفقت و محبت سے پیش آنے کا بھی حکم دیا ہے۔ان احکام کی غرض یہ ہے کہ جب انسان یہ کام کرے گا اور خدا کیلئے کرے گا تو خدا کا نور اسے ان چیزوں میں بھی نظر آنے لگے گا۔وہ شخص جو خدا کو ایک بادشاہ کی بادشاہت میں دیکھتا ہے جب وہ ایک فقیر کو گا تو اس کی کمزور حالت میں بھی اسے خدا کا جلوہ نظر آجائے گا۔گویا ایک بادشاہ کی بادشاہت میں ہی اسے خدا کا جلوہ نظر نہیں آتا بلکہ فقیر کی فقیری میں بھی نظر آتا تندرست کی تندرستی میں ہی اسے خدا کا جلوہ دکھائی نہیں دیتا بلکہ بیمار کی بیماری اور ضعیف کی ضعیفی میں بھی نظر آتا ہے۔تب اس کیلئے خدا کی ایک مکمل صورت پیدا ہو جاتی ہے۔اور مکمل صورت ہی محبت کرنے کے قابل ہوتی ہے۔۔ہے۔انہی احکام کے ماتحت صوفیاء نے اسلام کا خلاصہ یہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے محبت ا اور بنی نوع انسان سے شفقت۔جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق صفات تنزیہ کو ظاہر کرتا ہے اور بنی نوع انسان سے تعلق صفات تشبیہ کو ظاہر کرتا ہے۔اور جب یہ دونوں کامل ہوں تو خدا کی صورت نظر آجاتی ہے۔اسی وجہ سے اسلام نے ہمدردی اور شفقت کی تعلیم دنیا کو دی۔ہزارہا احکام رسول کریم ﷺ کے ایسے ملتے ہیں جو بظاہر تمدنی احکام نظر آتے ہیں مگر ان میں شفقت عَلَى النَّاسِ پائی جاتی ہے۔کتنی چھوٹی چھوٹی باتوں کا رسول کریم ان نے خیال رکھا۔آپ نے فرمایا راستوں میں پاخانہ نہ پھروالے کانٹے اور پتھر وغیرہ تکلیف دینے والی چیزیں راستہ میں ہوں تو انہیں ہٹا دو تے۔بے کس کی مدد کرو۔یہاں تک کہ اگر تم سوار ہو کر کہیں جارہے ہو۔اور ایک تھکی ماندی غیر قوم کی عورت دیکھو اور تم اسے منزل مقصود پر پہنچا دو تو یہ تمہارے لئے ثواب کا موجب ہو گا ہے۔پھر ایک لقمہ بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو؟ یہ ایک نیکی ہے جس کا تمہیں ثواب ملے گا ہے۔اسی طرح فرمایا۔جب کسی دوست سے ملو تو خوشی اور بشاشت سے ملوھے۔جب کوئی شخص ظلم کرتا ہو تو اسے سے روکو نے۔مصیبت زدہ کو دیکھو تو حتی المقدور اس سے ہمدردی کرو ہے - ہمسائے کا