خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 218

خطبات محمود - PIA سال ۱۹۳۳ء حضرت نظام الدین صاحب اولیاء جو کہ دہلی کے بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں اور نظامیہ سلسلہ ان کے نام پر جاری ہے، حضرت معین الدین صاحب چشتی کے خلفاء میں سے تھے۔بیان کیا جاتا ہے کہ وہ ایک دن بازار میں سے گزر رہے تھے۔بہت سے شاگرد ان کے ساتھ تھے۔انہوں نے راستہ میں ایک خوبصورت بچہ دیکھا اور بڑھ کر اسے پیار کیا۔شاگردوں نے بھی بڑھ بڑھ کے اسے پیار کرنا شروع کردیا۔اور یہ خیال کیا کہ چونکہ ہمارے پیر نے ایسا کیا ہے اس لئے اس میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوگی۔مگر ان کے ایک مقرب شاگرد جو دوسرے تمام شاگردوں سے ممتاز سمجھے جاتے تھے، انہوں نے اس موقع پر بچہ کو پیار نہ کیا بلکہ خاموش کھڑے رہے۔بعض تنگ نظروں نے انہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھا اور کہا ایسا مقرب شاگرد ہو کر پیر کی متابعت نہیں کرتا۔حضرت نظام الدین صاحب آگے بڑھے تو راستہ میں ایک بھڑ بھونجے کی بھٹی نظر آئی۔آگ جل رہی تھی۔چونکہ بھڑ بھونجے لکڑیاں نہیں جلاتے بلکہ یتے وغیرہ جمع کر لیتے ہیں اور انہی سے بھٹی میں آگ روشن کرتے ہیں، اس لئے بڑے بڑے شعلے ہیں۔انہوں نے جونہی آگ کے شعلوں کو دیکھا نہایت اطمینان اسے جھکے اور آگ کے شعلہ کو بوسہ دیا۔تب باقی شاگرد تو پیچھے ہٹ گئے مگر وہ جس نے بچہ کو بوسہ نہ دیا تھا، آگے بڑھا اور اس نے بھی آگ کو بوسہ دیا۔اور اپنے ساتھیوں سے کہا اب کیوں اسے بوسہ نہیں دیتے۔پھر ان سے کہنے لگا اے نادانو! کیا تم نے یہ سمجھا تھا کہ انہوں نے بچہ کو بوسہ دیا۔حضرت نظام الدین صاحب کو اس بچہ میں خدا کا جلوہ نظر آیا۔اور وہ اُس وقت ایسی محویت میں تھے کہ انہوں نے بوسہ دیا مگر بچے کو نہیں بلکہ انہوں نے خدا کی صنعت کو بوسہ دیا۔مجھے اس میں خدا کی صنعت نظر نہ آئی میں نے اسے صرف بچہ ہی سمجھا، اس لئے بوسہ نہ دیا۔پھر یہاں آکر انہوں نے آگ میں خدا کی جلوہ گری دیکھی جو مجھے بھی نظر آگئی اور میں نے اسے بوسہ دیا۔پس دونوں جگہ خدا کی جلوہ گری تھی۔اور وہی اس بات کی مستحق تھی کہ اسے بوسہ دیا جائے۔مگر ایک جگہ مجھے نظر نہ آئی اور ایک جگہ نظر آگئی۔غرض ایسی کیفیات کہ ہر ذرہ میں خدا نظر آتا ہے روحانی انسانوں پر وارد ہوتی رہتی ہے۔مگر وہ کیفیت بھی وارد ہوتی ہے جبکہ دنیا کا ہر ذرہ حقیر نظر آتا ہے۔اور ذرہ تو بہت چھوٹی چیز ہے، زمین و آسمان اور اس کا مجموعہ بھی حقیر نظر آتا ہے۔جب وہ سمجھتا ہے کہ دنیا میں سوائے خدا کے کچھ نہیں۔اور جب بجائے وجود کے عدم میں خدا نظر آنے لگتا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی صفات تنزیہہ کا جلوہ ہوتا ہے۔کامل انسان۔