خطبات محمود (جلد 14) — Page 210
خطبات محمود ۲۱۰ سال ۱۹۳۳ تو لیتے ہیں بھری گئی ہیں تو مفید بھی ہو سکتی ہیں۔اور جن لوگوں کی مالی حالت ایسی ہو کہ ان کا ایسے ریکارڈ خریدنا اسراف میں داخل نہ ہو وہ خرید بھی سکتے ہیں۔اور وقت ضائع نہ ہونے کی عد تک سن بھی سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود نے نظمیں لکھی ہی اس لئے ہیں کہ لوگ پڑھیں اور سنیں، نہ کہ کتابوں میں بند کر کے رکھ دینے کیلئے۔اس کے بعد میں جب قادیان آیا تو چند دن بعد ایک صاحب نے مجھے ایک لمبا خط لکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دو نظمیں طبلے اور مزامیر وغیرہ کے ساتھ ریکارڈ میں لائی گئی ہیں۔اور بعض نوجوان پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ ہمیں چاہیئے ایسے ریکارڈ خریدیں اور گھروں میں رکھیں۔لکھنے والا نوجوان ایک مولوی ہے اور تعلیم یافتہ ہے۔مگر باوجود اس کے اس نے بڑی گھبراہٹ ظاہر کی اور جس کا نام اس نے لکھا ہے، وہ دین سے بالکل ناواقف اور جماعتی نظام کے لحاظ سے بھی زیر عتاب ہے۔اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ ایسے شخص کے پروپیگنڈا کی کیا وقعت ہو سکتی ہے۔اور اس طرح گھبرانے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔میں نے ابھی تک وہ ریکارڈ نہیں سنا اور اس لئے نہیں کہہ سکتا کہ ان رپورٹوں میں سے کچی کون سی ہے۔آیا ریکارڈ مزامیر کے ساتھ بھرا گیا ہے۔راگ کے وزنوں پر ہے یا معمولی خوش الحانی کے ساتھ۔دو تین روز ہوئے ایک صاحب نے مجھے خط لکھا تھا کہ میں نے کوشش سے ایسے ریکارڈ تیار کرائے ہیں جو میں آپ کو سنانا چاہتا ہوں۔اگر یہ مبالغہ نہیں اور ان کے تیار کرانے میں قادیان کے کسی شخص کا حصہ ہے تو جیسا کہ میں نے شروع میں بتایا ہے، ریکارڈ اپنی ذات میں تو کوئی بُری چیز نہیں۔بلکہ اس کے اخراجات جو اسراف کی حد تک پہنچتے ہوں، اس کا سننا جو وقت ضائع کرنے کی حد تک پہنچتا ہو اور اس میں ایسی چیز جو اپنی ذات میں ناپسندیدہ ہو بھروانا اسے بُرا بنادیتی ہے۔اور چونکہ میں نے یہ ریکارڈ نہیں سنا اس لئے نہیں کہہ سکتا کہ کیسا ہے۔لیکن اعلان کرتا ہوں کہ اگر یہ عام خوش الحانی کے ساتھ جیسا کہ ہمارے بعض بچے پڑھتے ہیں، بھرا گیا ہے تو اگر اس کا خریدنا اسراف کی حد تک نہیں پہنچتا اور اس کا سننا وقت ضائع کرنے تک نہیں تو یہ جائز ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے اپنی ایک نظم مولوی عبدالکریم صاحب سے خود فونوگراف میں بھرائی تھی۔اُس وقت فونوگراف ہوتے تھے، آج کل گراموفون ہیں۔آپ نے اس غرض سے ایک نظم تیار بھی کی۔جس کا ایک شعر یہ ہے۔