خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 184

خطبات محمود ۱۸۴ سال ۱۹۳۳ء ہے حرکت بھی ضائع نہیں جاتی۔ہونٹ کی حرکت ہاتھ کی حرکت سے بھی کم ہے کیونکہ ہونٹ اپنی جگہ پر ہی ہلتا ہے جبکہ ہاتھ اِدھر اُدھر حرکت کرتا ہے۔اتنی خفیف حرکت اتنا اثر پیدا کر دیتی وہ اثر ہزارہا میل پر بھی کم نہیں ہوتا۔دنیا چونکہ محدود ہے اس لئے ہم ہزاروں میل کہتے ہیں ورنہ اگر کروڑوں میل پر بھی سننے کا موقع ملتا تو وہاں بھی وہ حرکت سنتے۔غرض کوئی چیز ضائع نہیں جاتی خواہ اچھی ہو خواہ بُری۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے بار بار ہمیں اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ غفار ہے، ستار ہے، وہ مُكَفِّرُ السَّيِّئَاتِ ہے۔پس تو ہزاروں سال پہلے کا کیا ہوا ہر بُرا فعل بھی موجود ہے اور نتائج سے خالی نہیں لیکن جن کو خداتعالی معاف کردے ان کے برے اعمال اور اثرات کو وہ چھپا دیتا ہے اور ستاری سے کام لیتا ہے۔اس کے مقابلہ میں نیکیاں ہیں، وہ بھی اسی طرح موجود ہیں۔اور چونکہ وہ لوگوں کیلئے خوشی کا موجب ہیں اس لئے وہ اسی طرح ان کے سامنے آجاتی ہیں۔گویا ہر کام کیلئے ایک يَوْمُ الدِّين ہے۔اور ہر چیز کی ایک انتہاء ہے۔ہر چیز کا بدلہ اُس کے وقت پر دیا جاتا ہے۔جیسا کہ ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ کام ختم ہونے پر حساب کیا جاتا ہے۔مالک دوسری بات مُلِكِ يَوْمِ الدِّین میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ وہ انجام کے وقت کا ہے۔گویا اللہ تعالٰی کا فیصلہ انسان کے عمل کے مطابق نہیں ہوتا بلکہ انسانی عمل اور پھر اس کی سزا کے نتیجہ کو مد نظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔یعنی وہ یہ دیکھتا ہے کہ میری جزاء کیا نتائج پیدا کرے گی۔مالک یہ نہیں دیکھتا کہ کام کیا ہوا ہے بلکہ وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ اب مناسب کیا ہے۔نوکر ہمیشہ مالک کی ہدایات کو مد نظر رکھتا ہے لیکن اگر وہ پوری طرح ان پر عمل نہ کر سکے تو مالک موقع اور محل دیکھتا ہے اور حالات کے تغیر پر حکم بدل دیتا ہے۔وہ انجام کے موقع پر اپنی مالکیت کو ملحوظ رکھتا ہے۔وہ یہ دیکھتا ہے کہ نتیجہ کیا اثرات پیدا کرے گا۔اسی لئے کبھی ایک غلطی پر سزا دیتا ہے اور کبھی معاف کر دیتا ہے۔اگر سزا دینا بہتر ہو تو سزا دے دیتا ہے اور اگر معاف کر دینا بہتر ہو تو معاف کردیتا ہے۔گویا دو باتیں ہمیں سکھائی گئی ہیں جن پر انسانی تمدن اور اس کی ترقی کا انحصار ہے۔ایک تو یہ کہ کاموں کا جائزہ لیا جائے اور نتائج کو نظر انداز کر دیا جائے۔دنیا میں تمام سوسائٹیاں اسی لئے تباہ ہوتی ہیں کہ وہ نتائج کو نہیں دیکھتیں۔ہمیں نتیجہ دیکھنا چاہیے۔اگر نتیجہ خراب ہو تو کام میں نقص پیدا ہو گا۔حکومتیں اسی لئے تباہ ہوتی ہیں کہ وہ کام کا جائزہ نہیں لیتیں۔وہ دیکھتی ہیں کہ پولیس کام کر رہی ہے لیکن نتائج کا جائزہ نہیں