خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 181

خطبات محمود سال ۶۱۹۳۳۔کا تازہ فضل ہے ہے۔پس جب تک تمہارے اندر زندگی کی امید باقی ہے، وہ یاد دہانی کراتا رہے گا۔مگر جب اُس نے یاد دہانی چھوڑ دی اور تم قصوں میں پڑگئے تو وہ موت کا وقت ہو گا۔پس یہ اُس کی تازہ یاد دہانی ہے۔لیکن دراصل وہی پیغام ہے جو اُس نے آدم ، نوح ، موسیٰ ، " عیسی ، ابراہیم اور محمد مصطفی ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیا تھا۔یعنی اگر خدا کا قرب چاہتے ہو خواہ وہ فردی ہو یا جماعتی ، تو موت قبول کرو۔اور صرف یہی نہیں کہ خود ہی سمجھو بلکہ دوست دشمن سب کہیں کہ یہ ہلاکت کے منہ میں جارہے ہیں۔اور منافق اس موت میں تمہارے ساتھ شریک نہ ہو سکیں۔دشمن خوش ہو کہ بس یہ مرنے لگا ہے۔اور صرف پھیلنے کا بہانہ چاہیئے کہ یہ گیا۔جب یہ مقام حاصل ہو تو پھر اللہ تعالیٰ ایسے بندوں کو مرنے نہیں دیتا۔اسے اپنے بندوں کیلئے غیرت ہے۔ایسی غیرت کہ اس نے ان شہداء کے متعلق جو سچ سچ مرچکے۔جن کے متعلق وہ خود فرما چکا ہے کہ اس دنیا میں واپس نہیں آسکتے۔جن کے متعلق رسول کریم ﷺ کو اس نے کشف میں دکھایا کہ ایک صحابی شہ کو جو جنگ بدر میں شہید ہوچکا تھا، اللہ تعالی نے اپنے حضور باریاب کیا اور اس سے پوچھا کہ تمہاری اگر کوئی خواہش ہو تو بتاؤ میں اسے پورا کروں گا۔مگر جب اس نے کہا کہ میری خواہش تو ایک ہی ہے کہ مجھے پھر زندہ کیا جائے تا پھر میں تیری راہ میں مارا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں پھر مارا جاؤں تو باوجودیکہ اللہ تعالٰی نے اس کی خواہش کو پورا کرنے کا وعدہ فرمایا تھا، پھر بھی اسے فرمایا کہ اگرچہ تیری خواہش کا رد کرنا مجھ پر گراں گزر رہا ہے مگر میں عہد کرچکا ہوں کہ مردوں کو زندہ کر کے پھر دنیا میں نہیں بھیجا جائے گا ہے۔غرض باوجود اس کے کہ وہ لوگ مرگئے اور اس طرح ان کی موت واضح ہو چکی۔پھر بھی حکم دیتا ہے کہ ان کو مُردہ مت کہو۔اور اس صحابی نے جو خواہش کی یہی اصل مقصود ہے جو اللہ تعالیٰ کے بندہ کے سامنے ہونا چاہیئے۔جب تک یہ نہ ہو ترقی نہیں ہو سکتی۔اور جب یہ ہو جائے تو پھر انسان کبھی نہیں مر سکتا۔دیکھ لو ایک طرف تو ان لوگوں کو ایسے مُردے کہا ہے کہ جو باوجود اس قدر قرب الہی کے واپس نہیں آسکتے۔ادھر اس صحابی کو یہ جواب دیتا ہے مگر ان سب باتوں کے باوجود لوگوں کو یہی حکم دیتا ہے کہ ان کو مُردے مت کہو کیونکہ وہ زندہ ہیں لاہ۔اور جو ان مُردوں کو مرا ہوا کہنا برداشت نہیں کر سکتا وہ تم زندوں کو مُردہ دیکھنا کیسے گوارا کرے گا۔اگر تم اس کی راہ میں مرجاتے ہو اور قبر میں دفن ہو کر کتبہ بھی لگ جاتا ہے -