خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 176

خطبات محمود 124 سال ۱۹۳۳ء تو پانچ چھ ہی صحابہ رہ گئے۔اُس وقت رسول کریم ﷺ کو ایک پتھر لگا اور آپ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔اور وہ صحابہ جو آپ کے ساتھ تھے وہ بھی یا تو شہید ہو گئے اور یا زخمی ہو کر آپ کے ارد گرد گر پڑے۔اُس وقت صحابہ کفار پر حملہ کر رہے تھے کہ کسی نے آنحضرت ا کی شہادت کی خبر مشہور کر دی۔اُس وقت ایسا زبردست ریلا ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی جو آخر تک آپ کے ساتھ رہے تھے، آپ سے جُدا ہو گئے۔اور اس وحشت ناک خبر سے دلگیر ہو کر ایک صحابی بیٹھ گئے۔اتنے میں وہی صحابی ادھر سے گزرے انہیں یہ واقعہ معلوم نہ تھا۔اور یوں بھی مسلمان لڑائی سے بالکل نہ ڈرتے تھے۔اسے ایک معمولی چیز سمجھتے تھے۔وہ اُس وقت ہاتھ میں کھجوریں لئے کھاتے جارہے تھے۔انہوں نے دوسرے صحابی سے اس طرح بیٹھنے کی وجہ پوچھی اور جب اس نے سنایا کہ رسول کریم ا ا ا ا ا ا ا ا شہید ہوگئے ہیں تو وہ کہنے لگے اگر رسول کریم شہید ہو چکے ہیں تو ہمیں زندہ رہ کر کیا کرتا ہے۔چلو جہاں آپ گئے ہیں وہیں ہم بھی چلیں۔یہ کہہ کر لڑائی میں کود پڑے اور شہادت کے بعد جب اُن کی لاش کو دیکھا گیا تو اس پر قریباً اسی (۸۰) زخم تھے ھے۔اللہ تعالیٰ نے قضى نَحْبَہ میں انہی کی طرف اشارہ کیا ہے انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ اگر کبھی موقع آیا تو دکھادوں گا کہ جنگ کس طرح کرتے ہیں اور فی الواقع دکھا دیا۔خداتعالی فرماتا ہے۔مِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ - یعنی ایسے بھی ہیں جو حق ادا کرنا چاہتے ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ کی مشیت سے وہ پھر بچ جاتے ہیں۔یہ وہ جماعت ہے جس کے متعلق اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اس نے اپنے مقصد کو پالیا۔بعض لوگ اپنے لئے ایک گول (GOAL) مقرر کرلیتے ہیں اور پھر عمل سے وہاں پہنچ کر دکھا دیتے ہیں۔مگر بعض کو موقع نہیں ملتا ، ہاں وہ دل میں ضرور خواہش رکھتے ہیں کہ کاش! ہمیں بھی ایسا موقع میسر آئے۔جس وقت حضرت خالد بن ولید کی موت کا وقت قریب آیا اور دوست احباب عیادت کیلئے آئے تو آپ بے اختیار رو پڑے۔دوستوں نے پوچھا آپ کیوں روتے ہیں؟ آپ نے تو اسلام کی بہت خدمات کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں موت کے ڈر سے نہیں روتا بلکہ اس کی وجہ اور ہے۔میرے بدن سے کپڑا اُٹھا کر دیکھو۔سر سے لے کر پاؤں تک کوئی ایک انچ جگہ بھی ایسی ہے جہاں زخم نہ لگ چکا ہو۔اور جب انہوں نے دیکھا تو واقعی کوئی ایک انچ جگہ ایسی نہ تھی جہاں زخم کا نشان نہ ہو۔آپ نے کہا کہ میں ہر جنگ میں شریک ہوا۔اور ہر موقع پر میں نے اپنے آپ کو خطرہ میں ڈالا تاکہ شہادت کا درجہ