خطبات محمود (جلد 14) — Page 153
خطبات محمود ۱۵۳ سال ۱۹۳۳ء ا آپ فوت ہوئے۔ساڑھے پچیس سال ابھی آپ کے دعوئی پر نہیں گزرے تھے کہ عرب سارا فتح ہو چکا تھا۔شام کا بہت سا حصہ بھی فتح ہو چکا تھا۔۳۲ سال ابھی آپ کے دعوئی پر نہیں گزرے تھے کہ صحابہ نہ صرف شام بلکہ اناطولیہ کا ایک حصہ بھی فتح کر چکے تھے۔مصر فتح ہو چکا تھا، ایران فتح ہوچکا تھا اور عراق بھی فتح ہو چکا تھا۔دنیا کی دو زبردست سلطنتیں جو آج کل انگریزی اور روسی حکومت کی طرح تھیں انہیں شکست دے کر ان میں سے ایک کو بالکل برباد کر چکے تھے۔اور ایک کی حکومت کا بیشتر حصہ لے چکے تھے۔اور چھیالیس سال کے انتقام پر کہ یہ ہماری جماعت کی بیعت کا زمانہ ہے، وہ ایران سے گزر کر چین کے بہت سے علاقے کر چکے تھے، افغانستان کو بھی فتح کر چکے تھے۔اور ہندوستان میں بھی اسلامی فوجیں داخل ہو چکی تھیں۔اُدھر یورپ کے کناروں تک اسلامی جھنڈا لہرانے لگ گیا تھا۔غرض صحابہ کرام کے عمل کو دیکھتے ہوئے چاہیئے تھا کہ اتنے ہی عرصہ میں جماعت احمدیہ بھی متمدن دنیا کو فتح کرلیتی یا کم از کم اس کے نیچے سرنگ لگادیتی۔لیکن ہماری جماعت کے لوگ ہمیشہ اپنی زمہ داریوں سے بچنے کیلئے کہہ دیا کرتے ہیں کہ ابھی نئی جماعت ہے، افراد پوری سرگرمی نہیں دکھا سکتے۔مگر یہ نیا ہونا ایسا ہی ہے جیسے بڑھیا کو لوگ ڈلہن کہہ دیا کرتے ہیں۔اپنے آپ کو نیا کہنے سے کوئی انسان نیا نہیں بن سکتا۔ایک بڑھا جس کے دانت جھڑ چکے ہوں اگر اپنے آپ کو بچہ کے تو یہ نہیں کہ لوگ اسے بچہ کہنے پر تیار ہو جائیں گے بلکہ نہیں گے اور محول کریں گے۔پس ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرے۔میں نے اعلان کیا ہوا ہے کہ اگر لوگ اپنی ذمہ داریوں کو محسوس نہیں کریں گے تو ایسے افراد یا جماعتوں کو اس طریق پر جکڑ دیا جائے گا کہ یا تو مجبور ہو کر انہیں جماعت کے ساتھ چلنا پڑے گا۔اور جس رنگ میں مخلصین جماعت خدمت کر رہے ہیں، اسی طرح اسیر بھی خدمت دین کرنی پڑے گی اور یا پھر انہیں جماعت کو چھوڑ دینا پڑے گا۔بزدل اور کمزور آدمی ہمیشہ باقیوں کو بھی خراب کیا کرتے ہیں۔جب ہم تھوڑے تھے تب بھی دنیا ہم سے مرعوب اب ہم زیادہ ہو گئے ہیں اور اب بھی دنیا ہم سے مرعوب ہے۔لیکن اگر وہی اخلاص اور قربانی ہم میں ہوتی جو تھوڑے ہونے کی حالت میں پائی جاتی تھی تو میں سمجھتا ہوں آج دنیا پہلے سے بیسیوں گنا زیادہ ہم سے مرعوب ہوتی۔اب جبکہ مالی سال کا ایک مہینہ گزر چکا ہے قادیان کے لوگ اور کار کن دیکھ لیں کہ انہوں نے پہلے مہینہ کا حصہ ادا کر دیا ہے یا نہیں۔اگر ادا کر دیا