خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 147

خطبات محمود ۱۴۷ سال ۱۹۳۳ دی گئی ہے کہ کیوں یہ نکاح مسجد مبارک میں نہیں ہوا؟ یہ سننے والا جھٹ کہہ اُٹھتا ہے، کتنا بڑا ظلم ہے۔شریعت میں یہ کہاں لکھا ہے کہ ہر نکاح مسجد مبارک میں ہی ہو۔یا کیا جماعت کے ذمہ دار افسروں کی طرف سے اعلان ہوا ہے کہ نکاح ہمیشہ مسجد مبارک میں ہی پڑھے جایا کریں۔تب سننے والا کہتا ہے یہاں کے لوگ کتنے ظالم اور سیاہ دل ہو گئے کہ مسجد مبارک میں نکاح نہیں ہوا تو محض اس بناء پر بائیکاٹ کر دیا گیا۔منافق کھا جائیں گے اس بات کو کہ مجلس شوریٰ میں یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ قادیان کے نکاح اور باہر کے بھی ایک مقرر شدہ فارم کی خانہ پُڑی اور اُس کی تصدیق کے بعد پڑھے جائیں مگر ایسا نہیں کیا گیا۔وہ اس بات کو بھی کھا جائیں گے کہ تین دفعہ خلیفہ وقت سے پوچھا گیا، مگر اُس کے انکار کے باوجود چند لونڈے جن میں سے چند اوباش اور چند بد معاش تھے ، انہیں اکٹھا کر کے سمال ٹاؤن کمیٹی کے دفتر میں نکاح پڑھ دیا گیا۔سمال ٹاؤن کمیٹی کے دفتر میں آخر کیا برکت ہو سکتی تھی سوائے اس کے کہ اس نکاح کی پوشیدگی مد نظر تھی۔وہ اِن تمام باتوں کو کھا جائیں گے اور صرف یہ کہہ کر پروپیگنڈا کریں گے کہ دیکھئے کتنا ظلم ہو گیا ہے۔صرف اتنے قصور پر کہ کیوں یہ نکاح مسجد مبارک میں نہیں ہوا ہمارا بائیکاٹ کیا جاتا ہے۔اور اس طرح ناواقفوں کو دھوکا دینے کی کوشش کی جاتی بالکل ممکن تھا میرے حکم کے سننے میں انہیں کوئی غلط فہمی ہو گئی ہو۔گو میں نہیں سمجھ سکتا کہ تین دفعہ کے واضح انکار کے باوجود کس طرح کوئی غلط فہمی ہو سکتی ہے۔خصوصاً جبکہ ان کا اقرار ہے کہ انہیں کہا گیا کہ اس نکاح کی اجازت نہیں لیکن انہوں نے اس کے باوجود نکاح کردیا۔تا ہم مان لیا جا سکتا تھا کہ انہیں غلط فہمی ہوئی مگر وہ جو کہا جاتا ہے کہ ”خدا مجھے نادان دوستوں سے بچائے" ان کے منافق دوست ہیں جو اس معاملہ کو بھیانک شکل دیتے چلے جارہے ہیں۔پس اس لئے اب انہیں جتنی بھی شدید سزا ملے اس کی ذمہ داری ان منافق پروپیگنڈا کرنے والوں پر ہے جو ان کی تائید میں لکھتے ہیں اور محض جھوٹ اور فریب سے کام لے کر لکھتے ہیں۔اگر اس موقع پر رحم کیا جائے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے جو ذمہ داری مجھ پر عائد ہے، اس سے میں عہدہ برآ نہیں ہو سکتا۔خلیفہ وقت کا کام ہے کہ وہ ایک مضبوط چٹان کی طرح ہو۔ایسی چٹان کہ دنیا بھر کے سمندر بھی مل کر اُسے ہلا نہ سکیں۔اگر چند منافقوں۔میں ڈر جاؤں اور ایسے موقع پر رحم کرنے پر آمادہ ہو جاؤں جبکہ رحم مناسب نہیں، تو میں اپنی