خطبات محمود (جلد 14) — Page 145
خطبات محمود فیصلہ - ۱۴۵ سال ۶۱۹۳۳ یہ ہے ہے۔تو بجائے اس کے کہ امور عامہ سزا تجویز کرتا، اگر ان لوگوں کے دلوں میں ایمان ہوتا تو چاہیئے تھا کہ خود سزا دیتے۔یہ نہیں کہ ان لوگوں کو اِس سے انکار ہو کہ میں نے انہیں منع نہیں کیا۔انہوں نے خود اپنے بیان میں اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ ہم نے تین دفعہ پوچھا، مگر تینوں دفعہ ہمیں روکا گیا لیکن باوجود اس کے نکاح کر دیا گیا۔اس پر جب سزا دی گئی تو میں نے پانچ پانچ صفحوں کے بعض لوگوں کے خطوط پڑھے جن میں ایسی ایسی دلالیاں کی گئی ہیں کہ دلالہ جو عرب میں مشہور ہے، اُس نے بھی نہیں کی ہوں گی۔ایک شور مچارکھا ہے کہ ہو گیا، اندھیر نگری اور چوپٹ راجہ والی مثال بن گئی۔قادیان کے مخلصین مجاہدین اور مہاجرین جو سلسلہ کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہیں اور اپنے اخلاص اور تقویٰ میں بے نظیر ہیں ان کی کوئی بات سنی نہیں جاتی۔بغیر سوچے سمجھے دباؤ ڈالا جاتا اور ہر طرح اپنی حکومت جتائی جاتی ہے۔میں ایسے لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ فرمانبرداری کس جانور کا نام ہے۔تین دفعہ فیصلہ دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ نکاح نہ ہو مگر دو چار بیوقوف اور دو چار لونڈے سمال ٹاؤن کمیٹی کے دفتر میں نکاح پڑھ دیتے ہیں۔کیا قادیان کے نکاح اسی طرح ہوا کرتے ہیں۔میں ان جو فروش گندم نما احمدی کہلانے والوں سے پوچھتا ہوں کہ وہ جو سزا دیئے جانے پر پانچ پانچ صفحے کے مجھے خط لکھتے ہیں کہ کتنا ظلم اور اندھیر ہو گیا کیا وہ خط اُن کی فرمانبرداری اور اطاعت کی روح پر دلالت کرتے ہیں یا اس بات پر کہ ان کے اندر اطاعت کی روح ہی نہیں؟ وہ لوگ جنہوں نے براہ راست نافرمانی کی، انہوں نے تو ممکن ہے کسی معذوری کے ماتحت ایسا کیا ہو۔ہے جس کے پاس لڑکی رہتی ہو، اُس نے چاہا ہو کہ میں جلدی اس کے بوجھ سے فارغ ہو جاؤں۔اور ممکن ہے لڑکے نے یہ خیال کیا ہو کہ مجھے اور رشتہ تو ملتا نہیں چلو اسی سے نکاح کرلوں بعد میں معافی مانگ لوں گا۔مگر یہ خط لکھنے والے وہ ہیں جن کا اس نکاح سے کوئی بھی واسطہ اور تعلق نہیں۔اور محض پرائے شگون میں ناک کٹا کر اپنے آپ کو جہنم میں گرا رہے ہیں۔بظاہر وہ خطوط میں اپنا اتقاء بھی ظاہر کرتے ہیں مگر اُن کا اتقاء ایسا ہی ہے۔جیسے عبد اللہ بن ابی بن سلول، بنو قینقاع اور بنو نضیر کے معاملہ میں ظاہر کرتا تھا۔وہ بھی یہی کہتا تھا کہ رحم -رحم مگر کیا قرآن نے اُسے رحیم قرار دیا۔قرآن مجید اُسے رحیم نہیں بلکہ منافق قرار دیتا اگر نظام سلسلہ کو اس رنگ میں چلایا جائے اور اس قسم کے احمقوں کی بات کو مان لیا جائے تو وہی بے لگامی احمدیت میں آجائے جو اس وقت دوسروں میں ہے۔ممكن ہے۔