خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 131

خطبات محمود سال ۶۱۹۳۳ تھیں۔انہوں نے بیان کیا کہ چند دنوں کے عرصہ میں دو دفعہ مریضوں کیلئے وہاں کی انگریز لیڈی ڈاکٹروں نے اپنے خون پیش کردیئے۔اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ سوگوار چہرے جو میں نے یہاں آکر دیکھے، اگر ان میں سے کسی ایک کو بھی کہا جاتا کہ تمہاری صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اگر تھوڑا سا خون دے دو تو میرے خیال میں ان میں سے کوئی بھی انکار نہ کرتا۔اور اس حالت میں صرف یہی آخری علاج تھا۔اور میں سمجھتا ہوں حواس باختگی میں کسی کا ذہن اس طرف گیا ہی نہیں۔میں نے ڈاکٹر غلام احمد صاحب سے دریافت کیا کہ انگلینڈ میں ایسے وقت میں کیا کرتے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ صرف یہی ایک علاج ہے۔آج کل اگر کوئی طالب علم امتحان کے پرچے میں نمک کی پچکاری کو جو یہاں عام طور پر کرتے ہیں بطور علاج لکھ دے تو اسے فیل کر دیا جائے۔تو صرف یہی ایک علاج تھا اور جس آدمی کا خون لیا جائے، اسے ایک گھنٹہ کیلئے بھی لیٹنا نہیں پڑتا۔لنڈن میں ہزاروں لوگ اپنے نام درج کرا چھوڑتے ہیں کہ جب بھی ضرورت ہو ہمارا خون لے لیا جائے۔اور جب کوئی ایسا کیس آئے، ان لوگوں کو فون کر دیا جاتا ہے۔اور وہ ریلوں موٹروں میں چاروں طرف سے آجاتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں اگر دوسرا کوئی ڈاکٹر وہاں ہوتا تو یہ بات اس کے ذہن میں ضرور آجاتی۔اور گو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہاں نہ پچکاری کے سامان ہیں نہ خون ٹیسٹ کرنے کے لیکن اگر یہ خیال پیدا ہو جاتا تو یا مریضہ کو لاہور، امرتسر لے جانے کی یا وہاں سے تجربہ کار ڈاکٹر کو مع سامان لانے کی کوشش کی جاتی۔پس میں ان حالات سے متاثر ہو کر ایک تو یہ کہتا ہوں کہ ہمارے احمدی ڈاکٹر اس اکبر کو چھوڑ دیں جس میں ہندوستان کے ڈاکٹر عام طور پر مبتلا ہیں اور میں سمجھتا ہوں اگر ایک دو ڈاکٹر بھی اس واقعہ سے سبق حاصل کر کے اس بد عادت کو چھوڑ دیں اور تیس چالیس جانیں بھی اس طرح بچ جائیں تو سارہ بیگم کی موت کام آجائے گی۔خدا کا فرستادہ مسیح موعود علیہ السلام جسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۔اُجِيْبُ كُلَّ دُعَائِكَ إِلَّا فِي شُرَكَائِكَ ل - جس سے وعدہ تھا کہ میں تیری سب دعائیں قبول کروں گا سوائے ان کے جو شرکاء کے متعلق ہوں۔وہ ہنری مارٹن کلارک والے مقدمہ کے موقع پر مجھے جس کی عمر صرف 9 سال کی تھی دعا کیلئے کہتا ہے۔گھر کے نوکروں اور نوکرانیوں کو کہتا ہے کہ دعائیں کرو۔پس جب وہ شخص جس کی سب دعائیں قبول کرنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہوا تھا، دوسروں سے دعائیں کرانا ضروری سمجھتا ہے