خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 76

خطبات محمود 24 سال ۱۹۳۱ء صورت ہے۔قاعدہ کلیہ دنیا میں یہی ہے کہ اگر کل کو فائدہ ہو تو جزو بھی فا و حاصل کرے گا اور اگر گل کو نقصان پہنچے تو جزو بھی نقصان میں شریک ہو گا۔افراد کی بدیاں تو افراد سے وابستہ ہوتی ہیں اور ہر شخص کی علیحدہ علیحدہ تشخیص ہونی ضروری ہوتی ہے۔مگر قومی بدیوں کے لئے تمام قوم کو غور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔اور ساری قوم کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ ان کو دور کرنے کی کوشش کرے کیونکہ اگر بحیثیت قوم وہ ان بدیوں کے مقابلہ کے لئے کھڑی نہ ہو یا ان بدیوں کا علاج کرنے کے لئے تیار نہ ہو تو بحیثیت قوم اس میں بہت سے گناہ اور نقائص پیدا ہو جاتے ہیں اور اگر وہ نقائص مملک ہوں تو ایک وقت اس قوم کو ہلاک کر دیتے ہیں۔پس جہاں یہ ضروری ہے کہ ہم میں سے ہر شخص اپنے نفس کی کمزوریوں کو دیکھے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ ہم بحیثیت قوم بھی اپنی کمزوریوں کو دیکھیں۔اور جو بحیثیت قوم ہم میں کمزوریاں پائی جاتی ہیں ان کا علاج اور تدارک مشترکہ طور پر کریں کیونکہ بغیر مشترکہ طور پر علاج کرنے کے ہم کسی اور طریق سے کامیاب نہیں ہو سکتے۔جیسے دریا میں جب سیلاب آتا ہے تو کوئی ایک زمیندار اسے نہیں روک سکتا بلکہ اسے روکنے کے لئے گورنمنٹ کی امداد کی ضرورت ہوتی ہے جو مجموعہ افراد کا نام ہے۔گورنمنٹ کس چیز کا نام ہے اس کا کہ سارے افراد کا تجویز کردہ ایک مجموعہ ہوتا ہے جسے گورنمنٹ کہا جاتا ہے۔جب تک گورنمنٹ سیا اب کے روکنے میں امداد نہیں دیتی اس وقت تک وہ رک نہیں سکتا۔اسی طرح جو بدیاں مجموعہ افراد سے پیدا ہوتی ہیں اور قومی بدیاں کہلاتی ہیں جب تک تمام لوگ بحیثیت قوم ان کے ازالہ کی کوشش نہ کریں اس وقت تک ان کا استیصال نہیں ہو سکتا۔میں چاہتا ہوں کہ ایک سلسلہ خطبات کے ذریعہ قومی بدیوں پر کچھ بیان کروں اور ایسے رنگ میں بیان کروں جس سے عملی پہلو اختیار کرنے کا جماعت کے احباب کو موقع مل سکے یہ تو کسی انسان کے اختیار میں نہیں کہ اپنی باتوں پر عمل کرانے بھی لگ جائے کیونکہ ہر شخص کا اپنا اختیار ہوتا ہے جس بات پر چاہے عمل کرے اور جس پر چاہے نہ کرے لیکن اگر پورے طور پر کوئی بات ذہن نشین ہو جائے تو بسا اوقات انسان ہمت کر کے اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور کچھ کر دکھاتا ہے لیکن اگر بات ہی ذہن نشین نہ ہو تو کچھ نہیں کر سکتا۔میرے نزدیک احمدیہ جماعت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں چار پہلوؤں سے قومی بدیوں پر غور کرنا چاہئے وہ چار ذرائع ایسے ہیں جن کے ذریعہ ہم قومی امراض کی تشخیص کر سکتے ہیں پہلا ذریعہ وہ تعلیمات ہوتی ہیں جو کسی قوم میں جاری ہوں اور جن پر عمل کرنا ہر شخص اپنا فرض سمجھتا ہو۔چونکہ ہر شخص ان باتوں پر عمل کرتا ہے اس