خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 72

خطبات محمود ۷۲ سال ۱۹۳۱ء ہو ہو کر آپ رسول کریم میں تعلیم کے امتی بنے تو ایسے کامل امتی ہے کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔آپ نے رسول کریم میل کے متعلق وہ عشق وہ فداکاری اور وہ محبت دکھائی جس کی کوئی نظیر نہیں مل سکتی۔ایک شخص کا غیر احمدی ہونے کی حالت کا قول مجھے یاد آگیا۔اب تو وہ احمدی ہے۔جب رسول کریم میں تعلیم کے خلاف مسلسل بد زبانی کی گئی اور مذہبی پیشواؤں کے خلاف بد زبانی کے متعلق ایکٹ بنا تو اس نے کہا اگر مرزا صاحب اس وقت ہوتے تو وہ ضرور اس ایکٹ کی زد میں آجاتے۔یہ تو اس نے اپنی اس وقت کی حالت کے لحاظ سے کہا کیونکہ وہ نہ جانتا تھا کہ آپ کو اس ایکٹ کی زد میں لا کر جیل خانہ میں لے جانے والا کوئی پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔مگر یہ کہنے سے مراد یہ تھی کہ رسول کریم ملک کے خلاف لکھنے والوں کو آپ ضرور دندان شکن جواب دیتے اور پھر وہ حکومت کے پاس چیختے چلاتے جاتے۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے امتی ہونے کا ایسا نظارہ دکھایا کہ اب جوں جوں یہ نظارہ دنیا کے سامنے آتا جائے گا آنکھیں رکھنے والے اور دیکھنے والے یہ نہ کہہ سکیں گے کہ امتی ہونے کا مفہوم بدل گیا۔اسی طرح لوگ نبوت کے منکر چکے تھے۔اور کہا جاتا تھا پرانے زمانہ میں الہام نازل ہونے کا جو دعویٰ کیا جاتا تھا اسے لوگ مان لیتے تھے۔اب دنیا تعلیم یافتہ ہو گئی ہے اس لئے اب کوئی نہیں مان سکتا۔ایسے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ میرا آقا اور سردار تو الگ رہا مجھ پر خدا کا الہام نازل ہوتا ہے۔پہلے پہل دنیا نے اس کا انکار کیا اور اس دعوئی پر ہنسی لیکن ابھی کوئی زیادہ زمانہ نہیں گزرا کہ کئی عیسائی یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں بھی یہ کہنے والے پائے جاتے تھے کہ گو ہم مرزا صاحب کا دعوی نہ مانیں لیکن ہم انہیں جھوٹا اور فریبی نہیں کہہ سکتے جو کچھ وہ کہتے ہیں اسے سچ مان کر اور سمجھ کر کہتے ہیں۔کئی انگریزوں نے ایسی کتابیں لکھی ہیں جن میں لکھا ہے کہ ہم مرزا صاحب کو جھوٹا نہیں کہہ سکتے۔یہ تو نہ ماننے والوں کے بیانات ہیں۔لیکن ماننے والے بھی لاکھوں موجود ہیں۔غرض اس زمانہ میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ نے نبوت منوا کر دکھادی۔نادان پیغامی لاہور میں بیٹھے شور مچاتے رہتے ہیں کہ مرزا صاحب کو نبی بنا کر اسلام کو نقصان پہنچادیا گیا۔مگر وہ کیا جانیں کہ محمد م کی نبوت پر جو اعتراض کئے جاتے ہیں انہیں دور کرنے کے لئے نبی کا آنا ہی ضروری تھا۔دنیا کہتی تھی محمد کا زمانہ جہالت کا زمانہ تھا اس وقت جو بات تسلیم کرائی گئی موجودہ روشنی کے زمانہ میں اس کی کوئی وقعت نہیں ہو سکتی۔یہ نہ صرف اسلام کے مخالف ہی کہتے ہیں۔بلکہ خود مسلمان کہلانے