خطبات محمود (جلد 13) — Page 69
خطبات محمود 49 سال ۱۹۳۱ء کمال ثابت کرنے کے لئے مجھے یہ مرتبہ بخشا ہے کہ آپ کے فیض کی برکات سے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا تو میرے عقیدہ میں اپنے متبوع کے غیر کی نسبت اپنے آپ کو افضل قرار دیتے ہیں کیونکہ آپ میں ایک وقت میں دونوں کمال جمع ہو گئے۔ایک کامل استاد کا انعکاس اپنے اندر رکھنے کا کمال اور دو سرا کامل استاد ہونے کا۔آپ منور ہوئے ایک ایسے سورج سے جس کی مثال نہیں۔اور منور کئے گئے ایک ایسی امت کے لئے جس کی مثال نہیں مل سکتی کیونکہ وہ امت امت محمدیہ ہے۔اگر آپ نے عکس لیا تو ایک ایسی ہستی سے جو مجھ میں نام کی ہستی ہے اور اگر عکس ڈالا تو انیسی امت پر جو ساری امتوں کے لئے قابل رشک ہے۔پس جو انسان اس امت کو قابل رشک بنانے میں معتد بہ کام کرتا ہے۔اس کے درجہ کی افضلیت کا کون انکار کر سکتا ہے۔پس یہ زمانہ آج کے دن کی طرح ایک خاص خصوصیت رکھتا ہے اور اس کے لئے ہمیں بھی ویسی ہی تیاری کرنی چاہئے جیسی کہ دو عیدوں کے لئے کرتے ہیں۔دو عیدوں کے ایک دن جمع ہونے کے کیا معنی ہیں۔یہ کہ دو خطبے پڑھے گئے اور دو نمازیں ادا کی گئیں۔دراصل مسلمان کی عید کے معنے ہی یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کے لئے وہ اور زیادہ قربانی کرتا ہے۔جب خدا تعالیٰ نے ہمیں ایسے زمانہ میں پیدا کیا جو دو عیدوں کا مظہر ہے اس میں محمدیت کا جلال اور احمدیت کا جمال ظاہر ہوا تو ہمیں بھی چاہئے کہ دو ہرا کام کریں۔خدا تعالیٰ کا کوئی کام بلا حکمت نہیں ہوتا۔وجہ کیا ہے کہ اس نے اس زمانہ میں دو شاخیں جمع کر دیں اسی وجہ سے کہ اس زمانہ میں دنیا میں ایسا فتنہ رونما ہونا تھا جس کے مقابل کا پہلے کبھی نہیں ہوا۔چنانچہ رسول کریم می فرماتے ہیں۔اس آخری زمانہ کے فتنہ کے متعلق نوح سے لے کر آخر تک تمام انبیاء خبریں دیتے آئے ہیں۔چونکہ اس زمانہ کا فتنہ ایسا تھا جس کی مثال پہلے کسی زمانہ میں نہ ملتی تھی اس لئے اس کو دور کرنے لئے نبی بھی ایسا بھیجا گیا جس کی مثال پہلے نہیں ملتی۔یعنی اسے دو نور عطا کئے گئے۔ایک رسول کریم ملی کا امتی ہونے کا اور دوسرا نبی ہونے کا پس اس نے نبی ہونے کے لحاظ سے تو یہ بتایا کہ آقا کیسا ہونا چاہیئے اور امتی ہونے کے لحاظ سے یہ بتایا کہ تابع کیسا ہونا چاہئے۔گویا اس زمانہ میں ایک بہت بڑا فتنہ نبوت کا انکار تھا۔اور دوسرا نبی کی اطاعت کا مفہوم بدل گیا تھا۔آج مسلمان کہلانے والے کہتے تھے اس سے اسلام کا کیا تعلق کہ نماز پڑھی جائے یا نہ پڑھی جائے۔ان کی مثال اس شخص کی سی تھی جس کے متعلق مشہور ہے کہ اس کا دعویٰ تھا میں بڑا بہادر ہوں۔پرانے زمانے میں ہر شخص اپنی خاص صفت کے مطابق اپنے جسم پر نشان گدوا تا تھا۔آج کل یہ رسم بہت کم ہو گئی ہے۔افریقہ یا امریکہ