خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 68

خطبات محمود ۶۸ سال ۱۹۳۱ء رسول کریم مال سے منہ موڑ لیں اور آپ کی لائی ہوئی شریعت کو ترک کر دیں تو اس سے آپ کے زمانہ کا انقطاع نہیں ہو سکتا۔ہم یہ تو کہیں گے کہ ایسے لوگوں کے گھروں میں ماتم بپا ہو گیا اور وہ ماتم کر رہے ہیں مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ رسول کریم میں ایم کے ذریعہ قائم شدہ عید نہ رہی وہ عید اسی طرح جاری رہے گی۔ہاں اس کے دوران میں ایک اور عید آسکتی ہے اور وہ آئی یعنی آخری زمانہ کا مصلح اور مامور جس کی نسبت خدا تعالیٰ نے انبیاء سے پیش گوئیاں کرائیں اسے ظاہر کر دیا۔پس جس طرح آج جمعہ کے دن عید آگئی ہے اور اس طرح دو ہری عید بن گئی ہے اسی طرح رسول کریم من لا علم کی عید میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عید شامل ہو گئی۔نادان کہتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی کیونکر آسکتا ہے۔کیا آپ کا زمانہ ختم ہو گیا۔ہم کہتے ہیں کیا آج عید جمعہ کے آنے سے ختم ہو گئی آج جمعہ بھی آیا اور عید بھی آئی۔آج ہم عید بھی منا رہے ہیں اور جمعہ بھی آج عید بھی شام تک چلی جائیگی اور جمعہ کا دن بھی کیونکہ آج عید جمعہ کے اندر آگئی۔پس جس طرح آج کا دن دو عیدیں اپنے اندر جمع رکھتا ہے اسی طرح موجودہ زمانہ جو ہے یہ بھی دو عیدوں کا مجموعہ ہے دو عظیم الشان ظہور اس میں ہوئے اس میں ایک دور تو ایسا آیا جو اولیت کے لحاظ سے تمام مقامات اور تمام درجات سے افضل ہے اور دو سرا ایسا ہے جو آخریت کے لحاظ سے تمام مقامات سے افضلیت رکھتا ہے یعنی یہ زمانہ محمد م کا زمانہ ہے جو اپنے فیوض کے لحاظ سے تمام انبیاء کے زمانوں سے خواہ وہ شرعی نبی ہوں یا غیر شرعی افضل ہے پھر یہ زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ ہے۔جو تمام انبیاء کے زمانوں سے جو کسی شرعی نبی کی شریعت کے اظہار یا اس کے قائم کرنے کے لئے آئے افضل ہے۔پس اس زمانہ میں دو افضلیتیں جمع ہو گئیں۔اولیت کی افضلیت بھی اور آخریت کی افضلیت بھی اور یہ اپنی برکتوں اور فضیلتوں کے لحاظ سے غیر معمولی برکات کا زمانہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام لکھتے ہیں میں امتی نبی ہوں۔اس سے شاید کوئی یہ سمجھے کہ امتی نبی ہونے کی وجہ سے آپ کا درجہ کم ہو گا اس لئے آپ فرماتے ہیں امتی نبی ہو نا درجہ کی کمی پر دلالت نہیں کرتا بلکہ یہ فخر کا مقام ہے کیونکہ مجھ میں دو کمال جمع ہو گئے۔میں ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی ہوں تاکہ آنحضرت میر کی قوتِ قدسیہ اور کمال فیضان ثابت ہو۔پس اس میں تو کوئی شبہ نہیں کہ امتی کی اپنے متبوع سے نچلے درجہ میں ہی ہو گا۔لیکن جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی مصلحت اور حکمت نے آنحضرت ملی کے افاضہ روحانیہ کا کوئی