خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 637 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 637

خطبات محمود سال ۱۹۳۲ء تو وہ جری کہلائے گا۔جرات یہ نہیں کہ لٹھ لے کر دشمن کو مارنے کے لئے چل پڑیں۔کیونکہ اگر ہم یہ معنی کریں تو میں تسلیم کرنا پڑے گا کہ لاکھوں کو یہ نیک صفت دکھانے کا موقع نہیں ملا۔دیکھ لو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیشہ عفو کی تعلیم دیتے تھے۔اور آپ نے کبھی لڑائی نہیں کی بلکہ بسا اوقات آپ پر دشمنوں کی طرف سے حملے ہوئے۔لاہور میں سے ہی ایک دفعہ آپ رہے تھے کہ ایک اور مدعی مہدویت بھی آنکلا اور اس نے اس زور سے آپ کو مکا مارا کہ آپ گر گئے۔باقی دوستوں نے چاہا کہ اسے ماریں مگر آپ نے فرمایا چھوڑ دو اس نے تو نیک نیتی سے ہی کیا ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے نہ صرف لڑائی میں ابتداء نہیں کی بلکہ دشمن کے مقابلہ میں بھی عفو سے کام لیا۔مگر خد ا کیا نام رکھتا ہے جَرِيُّ اللَّهِ فِي حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ اللہ کا جری جو سارے نبیوں کے حلوں میں آیا ہے حالانکہ آپ نے کبھی لڑائی نہیں کی بلکہ لڑائی تو دور کی بات ہے ایسی نیت بھی آپ نے کبھی نہیں کی۔مگر باوجود اس کے کہ ساری عمر لڑے نہیں بلکہ لڑائی کی نیت بھی نہیں کی خدا کہتا ہے کہ آپ جری ہیں اور ایسا جری جو ہمار اسپہ سالار ہے۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ جرات صرف لڑائی کا نام نہیں بلکہ موقع پر عفو کرنا اور درگزر سے کام لینا اور اپنے جذبات کی قربانی کرنا بھی جرات اور دلیری ہے۔یہ جرات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میں بدرجہ اتم پائی جاتی تھی اور ہمیشہ آپ نے سچائی اور راستی کی تائید کی اور کبھی اس راہ میں جانی یا مالی نقصان سے خوف نہیں کھایا۔پس خدا کے حضور آپ جری اللہ کہلائے۔اسی طرح اگر کوئی بھی بجائے دشمن کے مقابلہ میں لٹھ اٹھا لینے کے اپنی عزت مال جان اور آبرو کی قربانی کرنے کے لئے تیار رہتا ہے اور نیکی کے مواقع پر خطرات کو قبول کرتے ہوئے راستی کو ترک کرنا گوارا نہیں کرتا تو وہ جری کہلائے گا۔اور اگر وہ اور زیادہ ترقی کرے گا تو جری اللہ بن جائے گا۔پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ جری کے معنی صرف لٹھ باز کے ہی نہیں بلکہ موقع پر عفو اور درگزر سے کام لینے والا، تکلیفوں کو برداشت کرنے والا اور ظاہری نقصانات کو قبول کرنے والا بھی جری ہے۔ہاں اگر کوئی ڈر کے مارے ایسا کرتا ہے تو وہ بزدل ہے جیسے اگر کوئی شخص نماز تو پڑھتا ہے لیکن اس لئے نہیں کہ خدا کا یہ حکم ہے بلکہ اس لئے کہ محلہ کے لوگ کیا کہیں گے۔یا اس لئے چندہ نہیں دیتا کہ یہ قربانی ہے بلکہ اس لئے دیتا ہے کہ دوسرے لوگ اسے مطعون نہ کریں تو ایسا شخص جری نہیں خواہ وہ ساری عمر ایسے کاموں میں گزار ردے بلکہ وہ