خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 57

خطبات ނ محمود ۵۷ سال ۱۹۳۱ء جس کا دعوئی ہو کہ وہ سارے جہان کے لئے ہے ایسا نام کیسے اختیار کر سکتا ہے جو کسی خاص ملک مختص ہو۔پس رمضان کے معنے وہی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائے ہیں کہ یہ روحانی گرمی پر دلالت کرتا ہے۔ان دنوں میں اللہ تعالیٰ انسان کو خاص طور پر روحانی کاموں میں لگا دیتا ہے تا اس کے اندر ایسی گرمی پیدا کرے کہ وہ اس کے فیوض حاصل کر سکے۔اردو میں بھی گرم ہو جاؤ کا محاورہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ خوب تیزی اور سرگرمی سے کام کرو۔پھر زور کے ساتھ کام کرنے کے نتیجہ میں بھی گرمی پیدا ہو جاتی ہے۔عربی کا بھی ایک محاورہ ہے کہ جب لڑائی تیز ہو تو کہتے ہیں حمی یا یہ کہ لڑائی کا نور گرم ہو گیا۔تو گرم ہونے کے یہ معنے بھی ہوتے ہیں کہ کام کو پوری جدوجہد سے کیا جائے۔پس رمضان کے معنے یہ ہیں کہ انسان خدا تعالیٰ کے قرب کے لئے گرمی پیدا کرتا ہے۔اور غور کرو کیا یہ کم گرمی ہے کہ وہ لوگ جو گیارہ مہینوں میں کبھی تجھ نہیں پڑھتے۔ان دنوں وہ بھی پڑھنے لگ جاتے ہیں۔اور جو کبھی ایک وقت بھی فاقہ نہیں کرتے وہ تمام مہینہ سارا سارا دن بھوکے رہتے ہیں۔اور جو صدقات اور خیرات سے اسلئے ہی چڑاتے کہ مال خرچ ہو جائے گاوہ بھی اس مہینہ میں زیادہ خرچ کرتے ہیں۔غرض وہ چیزیں جو انسان کو زیادہ نافل بنادیتی ہیں یعنی زیادہ کھانا پینا زیادہ سونا زیادہ باتیں کرنا اور زیادہ مالدار ہونا ان سب میں تبدیلی ہو جاتی ہے اور ان کی بجائے چستی پیدا کرنے والی باتیں انسان اختیار کر لیتا ہے یعنی کم کھانا کم سونا کم باتیں کرنا۔اور مال خرچ کرنا زیادہ مال جمع کرنے والے بھی ست ہو جاتے ہیں غرضیکہ سب چستی پیدا کر نیوالی باتیں رمضان میں جمع ہو جاتی ہیں۔کہ انسان کم کھاتا ہے۔تھوڑا ہوتا ہے ذکر الہی میں مشغول رہنے کی وجہ سے کم باتیں کرتا ہے اور مال زیادہ خرچ کرتا ہے۔جو لوگ صدقہ نہ بھی کریں ، رمضان کے مہینہ میں وہ اپنی خوراک پر ہی زیادہ خرچ کرتے ہیں ہر شخص روز کہاں پر اٹھے کھاتا ہے۔مگر رمضان میں عام طور پر لوگ پر اٹھے کھاتے ہیں۔یا افطاری پر ہی کچھ نہ کچھ زیادہ خرچ کرتے ہیں۔غرضیکہ اس مہینہ میں ضرور زیادہ خرچ ہو جاتا ہے۔اور جو لوگ زیادہ صدقہ خیرات کرنے کے عادی نہیں وہ اپنے جسم کی حفاظت کے لئے ہی زیادہ خرچ کر دیتے ہیں وہ چاہے خدا کے لئے نہ کریں مگر اپنے نفس کے لئے ضرور کر دیتے ہیں۔غرض رمضان میں یہ بتایا گیا ہے کہ انسان محنت کرے تب ہی اس کے لئے عید ہو سکتی ہے اور اپنے اندر یہ سبق رکھتا ہے کہ اگر انسان واقعی اپنے اوپر رمضان کی حالت طاری کرلے تو اس پر کوئی مصیبت نہیں آسکتی۔اور جو ساری کی ساری قوم کم کھائے کم سوئے ، مالی